بنگلورو، 28 اکتوبر (ایس او نیوز): کرناٹک قانون ساز کونسل (ودھان پریشد) کے چار حلقوں کے انتخابات میں بی جے پی اور جنتا دل (سیکولر) پر مشتمل قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) نے تمام چاروں نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے، جبکہ حکمراں کانگریس کو کسی بھی حلقے میں کامیابی نہیں ملی۔ اس نتیجے کو ریاست میں کانگریس کے لیے ایک سیاسی دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ان انتخابات میں بی جے پی نے شمال مشرقی ٹیچرس، مغربی گریجویٹس اور جنوب مشرقی گریجویٹس حلقوں میں اپنی نشستیں برقرار رکھیں، جبکہ جے ڈی ایس نے بنگلورو ٹیچرس حلقے میں کامیابی حاصل کرکے کانگریس سے یہ نشست چھین لی۔ اس طرح اپوزیشن اتحاد نے نہ صرف اپنی سابقہ نشستوں کا دفاع کیا بلکہ کانگریس کی ایک نشست پر بھی قبضہ کرلیا۔
بنگلورو ٹیچرس حلقے میں جے ڈی ایس امیدوار اے پی رنگناتھ نے کانگریس کے موجودہ رکن قانون ساز کونسل پٹّنّا کو 908 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ رنگناتھ کو 10,810 ووٹ ملے، جبکہ پٹّنّا نے 9,902 ووٹ حاصل کیے۔ اس حلقے کا نتیجہ خاص طور پر اہم رہا، کیونکہ یہاں کانگریس کو اپنی موجودہ نشست سے محروم ہونا پڑا۔
شمال مشرقی ٹیچرس حلقے میں بی جے پی کے ششیل جی نمّوشی نے کانگریس امیدوار شرنپا متّور کو 3,297 ووٹوں سے شکست دی۔ نمّوشی کو 15,596 اور متّور کو 12,299 ووٹ ملے۔ مغربی گریجویٹس حلقے میں بی جے پی کے ایس وی سنکنور نے کانگریس امیدوار موہن لمبیکائی کو 9,323 ووٹوں کے فرق سے ہرایا۔ سنکنور کو 33,711 جبکہ لمبیکائی کو 24,388 ووٹ حاصل ہوئے۔
جنوب مشرقی گریجویٹس حلقے میں بی جے پی کے امیدوار کے ایم سریش نے کانگریس امیدوار ششی ہولیکنٹے مٹھ کو 23,098 ووٹوں کے بڑے فرق سے شکست دی۔ سریش کو 66,020 اور کانگریس امیدوار کو 42,922 ووٹ ملے۔ سب سے اہم بات یہ رہی کہ اس حلقے میں 20,076 ووٹ مسترد بھی کیے گئے۔
انتخابات سے قبل کانگریس نے چاروں حلقوں میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مہم چلائی تھی، جبکہ بی جے پی اور جے ڈی ایس نے انتخابی تال میل کے تحت مشترکہ طور پر اپنے امیدواروں کی حمایت کی۔ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن اتحاد چاروں حلقوں میں کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہا، جبکہ کانگریس کسی بھی نشست پر اپنا امیدوار کامیاب نہیں کراسکی۔
تاہم، ان نتائج کو ریاستی حکومت کے استحکام پر براہِ راست اثر انداز ہونے والے فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ یہ انتخابات مخصوص گریجویٹس اور اساتذہ حلقوں تک محدود تھے؛ اس لیے ان کے نتائج ریاست بھر کے عوامی رجحان کی مکمل عکاسی نہیں کرتے۔ البتہ، چاروں نشستوں پر شکست کانگریس کے لیے ان حلقوں میں اپنی تنظیمی حکمت عملی اور ووٹروں کے درمیان حمایت کا جائزہ لینے کا باعث بن سکتی ہے۔