ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سلنڈر قیمتوں میں زبردست اضافہ؛ بھٹکل سمیت اُترکنڑا میں ہوٹل کھانوں کے دام بڑھنے کا امکان

سلنڈر قیمتوں میں زبردست اضافہ؛ بھٹکل سمیت اُترکنڑا میں ہوٹل کھانوں کے دام بڑھنے کا امکان

Sun, 03 May 2026 13:06:08    S O News
سلنڈر قیمتوں میں زبردست اضافہ؛ بھٹکل سمیت اُترکنڑا میں ہوٹل کھانوں کے دام بڑھنے کا امکان

بھٹکل 3/مئی (ایس او نیوز): کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی قیمتوں میں اچانک اور بھاری اضافے نے اُترکنڑا ضلع بھر کے ہوٹل مالکان—خصوصاً بھٹکل—کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ہوٹل صنعت بحران کی طرف بڑھ رہی ہے اور آئندہ دنوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ تقریباً ناگزیر دکھائی دے رہا ہے۔

بھٹکل میں کمرشل سلنڈر کی قیمت تقریباً 2125 روپے سے بڑھ کر 3100 روپے تک پہنچ گئی ہے، حالانکہ وہ پہلے ہی بڑھتی لاگتوں سے جوجھ رہے تھے۔ اب سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ سے ہوٹل مالکان کو سخت دھچکا لگا ہے۔ بھٹکل کے بیشتر ہوٹل روزانہ 2 سے 3 سلنڈر استعمال کرتے ہیں، جس کے باعث ماہانہ خرچ میں تقریباً 60 ہزار سے 1 لاکھ روپے تک کا اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔

20260503_182857

ضلع میں سب سے کم قیمت پر مچھلی کے کھانے فراہم کرنے کے لیے مشہور بھٹکل کے ہوٹل اب قیمتیں بڑھانے پر مجبور دکھائی دے رہے ہیں۔ اس وقت 90 سے 100 روپے میں ملنے والا فِش میل جلد ہی 100 سے 120 روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ مقامی ہوٹل مالک توفیق بیری نے کہا، “ہم نے اب تک کسی طرح کاروبار چلایا، لیکن اب سلنڈر کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد کھانے کی قیمتیں بڑھانا ناگزیر ہو گیا ہے۔” ایک اور ہوٹل مالک شاہد کے مطابق کم از کم 10 روپے فی پلیٹ اضافہ ضروری ہو گیا ہے۔ ہوٹل مالکان کے مطابق سلنڈروں کی فراہمی میں کمی نے مسئلہ کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ کئی ہوٹلوں کو مناسب تعداد میں سلنڈر دستیاب نہیں ہو رہے ہیں، جس کے باعث بعض مقامات پر لکڑی کے چولہوں کا سہارا لے کر کھانا تیار کیا جا رہا ہے، تاہم یہ طریقہ عارضی اور غیر پائیدار ہے۔

ہوٹل مالکان نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ایک ہفتے کے اندر ناشتے کی اشیاء جیسے اڈلی، دوسا اور پوری کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ ایک ہوٹل مالک نے بتایا کہ “ہمیں روزانہ کم از کم دو سے تین سلنڈر درکار ہوتے ہیں۔ گاہک اب تک ہمارا ساتھ دیتے آئے ہیں، لیکن اچانک قیمت بڑھانے پر ان کا ردعمل کیا ہوگا، کہنا مشکل ہے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہی ہے کہ قیمت بڑھانے کے علاوہ  ہمارے پاس کوئی دوسرا متبادل راستہ بھی نہیں ہے،” 

چائنیز، انڈین اور عربی کھانوں کے لیے مشہور ریستوران بھی اس بحران سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں کیونکہ ایندھن ان کے اخراجات کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ کرائے کی عمارتوں میں چلنے والے ہوٹلوں کے لیے صورتحال مزید مشکل ہو گئی ہے۔

IMG-20260503-WA0037بھٹکل میں بعض ہوٹلوں نے پہلے ہی 10 سے 15 روپے تک قیمتیں بڑھا دی ہیں، جبکہ کچھ دیگر اخراجات کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کئی مقامات پر تازہ چائے بنانے کے بجائے پہلے سے تیار شدہ چائے تھرماس میں رکھ کر دی جا رہی ہے تاکہ ایندھن کی بچت ہو سکے۔ دیہی علاقوں میں بھی چائے اور ہلکی پھلکی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔

اُترکنڑا ضلع کے دیگر علاقوں میں بھی اس کے اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں۔ سرسی میں کھانے کی قیمتوں میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ ڈانڈیلی اور ہلیال میں 5 سے 10 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے۔ انکولا میں بعض مقامات پر کھانے کی قیمت 100 سے بڑھ کر 120 روپے ہو گئی ہے، جبکہ یلاپور اور سِدّاپور میں بھی جلد اضافہ متوقع ہے۔

کمٹہ میں سلنڈر کی قیمت 3100 روپے سے تجاوز کر گئی ہے اور فراہمی میں کمی کے باعث ہوٹل صنعت شدید دباؤ میں ہے۔ سیاحتی مقام گوکرنا میں بڑے ہوٹلوں نے قیمتیں بڑھا دی ہیں، جبکہ چھوٹے ہوٹل ابھی پرانی قیمتوں پر برقرار رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم بعض مقامات پر سلنڈر کی قلت کے سبب کچھ ہوٹل عارضی طور پر بند بھی کیے گئے ہیں یا چند اشیاء بند کر دی گئی ہیں۔

اُترکنڑا میں ہوٹل صنعت ہزاروں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے اور مزدوروں، طلبہ، مسافروں اور متوسط طبقے کے افراد کے لیے روزمرہ خوراک کا اہم سہارا ہے۔ ایسے میں قیمتوں میں اضافہ براہِ راست صارفین، خاص طور پر کم آمدنی والے طبقے پر بوجھ ڈالے گا۔

محکمہ خوراک کے حکام کے مطابق کھانے کی قیمتوں کا تعین مکمل طور پر ہوٹل ایسوسی ایشن کے اختیار میں ہے اور حکومت براہِ راست مداخلت نہیں کرتی، البتہ وزن و پیمائ yeش محکمہ مقررہ قیمت سے زیادہ وصولی پر کارروائی کر سکتا ہے۔

مجموعی طور پر، کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی قیمتوں میں اس تیز اضافے نے ضلع کی ہوٹل صنعت کو سنگین بحران میں دھکیل دیا ہے، جہاں بھٹکل سمیت تقریباً تمام ہوٹل اور چائے کینٹین اس سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ کچھ علاقوں میں قیمتیں پہلے ہی بڑھائی جا چکی ہیں جبکہ دیگر مقامات پر ہوٹل ایسوسی ایشن کے آئندہ فیصلوں کے بعد جلد اضافہ متوقع ہے۔

Click here for report in English 


Share: