بھٹکل 3/مئی (ایس او نیوز) : مغربی بنگال اور اترپردیش سمیت بعض ریاستوں میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے بعد ووٹر فہرستوں سے بڑی تعداد میں نام غائب ہونے کی خبروں کے درمیان، کرناٹک میں بھی اس عمل کے باضابطہ آغاز سے قبل ہی تیاریوں نے رفتار پکڑ لی ہے۔
ریاست کے مختلف علاقوں میں سرکاری حکام اور سماجی تنظیموں کے اشتراک سے بیداری مہم اور ووٹر میپنگ کی سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں، جن میں 2002 کی ووٹر فہرست کو بنیادی حوالہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد ووٹر ریکارڈ کی تصدیق اور آئندہ نظرثانی کے عمل سے قبل درستگی کو یقینی بنانا ہے۔
اسی تناظر میں بھٹکل میں مجلس اصلاح و تنظیم کے زیر اہتمام صدر عنایت اللہ شابندری کی قیادت میں سنیچر اور اتوار کو دو روزہ خصوصی کیمپ منعقد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں مقامی افراد نے شرکت کرتے ہوئے رہنمائی حاصل کی۔
کیمپ کے دوران رضاکاروں نے 500 سے زائد افراد کو 2002 کی ووٹر لسٹ میں اپنے نام تلاش کرنے میں مدد فراہم کی۔ شرکاء کو ان کے پولنگ بوتھ نمبر، ووٹر سیریل نمبر اور متعلقہ بوتھ لیول آفیسر (BLO) کے رابطہ نمبر فراہم کیے گئے، اور انہیں ہدایت دی گئی کہ وہ جلد از جلد اپنی میپنگ کا عمل مکمل کریں۔ اس سلسلے میں مرحلہ وار رہنمائی بھی فراہم کی گئی۔
تنظیم کی ایس آئی آر کمیٹی کے کنوینر مبشر حسین ہلارے نے کہا کہ بھٹکل کے ووٹروں کو مکمل تعاون فراہم کیا جا رہا ہے اور آئندہ کے مراحل کے بارے میں تفصیلی رہنمائی دی جا رہی ہے تاکہ کوئی بھی اہل ووٹر فہرست سے باہر نہ رہ جائے۔
اگرچہ کیمپ کا اختتام اتوار کو شام 4 بجے مقرر تھا، تاہم ایک گھنٹہ بعد تک بھی لوگ بڑی تعداد میں اپنے نام تلاش کرنے کے لیے موجود رہے، جو عوامی تشویش کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
اس دوران ایک مقامی شہری، جو قطر کے شہر دوحہ میں ملازمت کرتے ہیں، نے بتایا کہ ان کے اہل خانہ نے 2023 کے اسمبلی انتخابات میں ووٹ دیا تھا، اس کے باوجود 2002 کی ووٹر فہرست میں ان کے خاندان کے کسی فرد کا نام موجود نہیں ہے۔ 55 سالہ شہری کے مطابق وہ انتخابات کے دوران اکثر بیرونِ ملک ہوتے ہیں، تاہم گزشتہ انتخابات میں وہ بھٹکل میں موجود تھے اور ووٹ بھی دیا، لیکن پرانی فہرست میں نام نہ ملنا تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔
مبشر حسین ہلارے کے مطابق بھٹکل کے قریب ایک ہزار افراد، خصوصاً گلف ممالک میں مقیم شہری، 2002 کی ووٹر لسٹ میں اپنے نام تلاش نہیں کر پا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے اکثر افراد غالباً اُس وقت اپنے مستقل پتے پر موجود نہیں تھے یا بیرون ملک مقیم تھے، جس کی وجہ سے ان کے نام درج نہیں ہو سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تنظیم اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور ایسے معاملات کی نشاندہی کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے گی کہ کوئی بھی اہل ووٹر انتخابی عمل سے محروم نہ رہے۔
تنظیم کے جنرل سکریٹری عبدالرقیب ایم جے ندوی نے بتایا کہ آئندہ دنوں میں ووٹر فہرستوں میں درستگی اور نئے اندراج کے لیے مزید خصوصی کیمپ منعقد کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسی بھی ووٹر کو حقِ رائے دہی سے محروم نہیں ہونے دیا جائے گا۔