ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / راشن گھوٹالہ: ای ڈی کی کارروائی ، کولکاتہ سمیت بنگال کے 9 مقامات پر چھاپے

راشن گھوٹالہ: ای ڈی کی کارروائی ، کولکاتہ سمیت بنگال کے 9 مقامات پر چھاپے

Sat, 25 Apr 2026 13:12:15    S O News

کولکاتہ ، 25/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی) مغربی بنگال میں انتخاب کے دوران انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ہفتہ (25 اپریل) کو راشن تقسیم (پی ڈی ایس) گھوٹالے کے معاملے میں بڑی کارروائی کی ہے۔ کولکاتہ، بردوان اور شمالی 24 پرگنہ کے ہابرا میں سپلائرز اور برآمد کنندگان سے وابستہ 9 ٹھکانوں پر تلاشی مہم چلائی گئی۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے کولکاتہ زونل آفس کی ٹیم نے ہفتہ کو منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون-2002 (پی ایم ایل اے) کے تحت یہ کارروائی کی۔ جن ٹھکانوں پر چھاپے ماری ہوئی ہے، وہ راشن تقسیم گھوٹالے کے معاملے میں ملزم نرنجن چندر ساہا اور دیگر افراد سے متعلق ہیں۔ ہابرا میں ایک تاجر کے ٹھکانوں پر بھی چھاپہ مارا گیا۔

واضح رہے کہ اس معاملے میں ای ڈی نے مغربی بنگال پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر کی بنیاد پر اپنی جانچ شروع کی۔ یہ ایف آئی آر 23 اکتوبر 2020 کو بشیرہاٹ پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی تھی۔ ایف آئی آر گھوجا ڈانگا ایل سی ایس کے کسٹم ڈپٹی کمشنر کی شکایت پر درج کی گئی تھی۔ اس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ فلاحی منصوبوں کے لیے طے عوامی تقسیم کے نظام (پی ڈی ایس) کے گیہوں میں بڑے پیمانے پر ہیرا پھیری کی گئی ہے۔

تحقیقات میں پتہ چلا کہ ملزمان نے فلاحی منصوبوں کے مستحقین کے لیے طے پی ڈی ایس گیہوں میں ہیرا پھیری کرنے کے لیے ایک منظم طریقہ اپنایا تھا۔ یہ گیہوں سپلائرز، لائسنس یافتہ ڈسٹری بیوٹرز، ڈیلرز اور ایجنٹوں کی ملی بھگت سے غیر قانونی ذرائع سے کم قیمتوں پر خریدی گئی تھی۔ گیہوں کی بڑی مقدار کو سپلائی چین سے غیر قانونی طور پر نکال کر مختلف مقامات پر جمع کیا گیا تھا۔ اس کی اصلی شناخت چھپانے کے لیے ملزمان نے ان اصل بوریوں کو ہٹا دیا یا الٹ دیا جن پر فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) اور ریاستی حکومت کے نشان بنے ہوئے تھے، اور پھر ان میں دوبارہ گیہوں بھر دی تھی۔ اس طرح ملزمان نے گیہوں کی پہچان بتانے والے نشانات کو چھپا دیا اور پی ڈی ایس گیہوں کو ایک قانونی اسٹاک کے طور پر دکھا کر کھلے بازار میں فروخت کر دیا۔ اس کے نتیجے میں ملزمان نے غیر قانونی طور پر زبردست منافع کمایا اور ’جرم کے ذریعے حاصل کردہ اثاثے‘ بنائے۔


Share: