نئی دہلی، 6/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی) چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر اپوزیشن اتحاد انڈیا کے ارکان پارلیمنٹ نے منگل کو پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ نکالا، لیکن پولیس نے انہیں پارلیمنٹ اسٹریٹ پر روک دیا۔ اس کے بعد متعدد اپوزیشن ارکان اور رہنما وہیں دھرنے پر بیٹھ گئے۔
اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کے مارچ میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے، پرینکا گاندھی، ترنمول کانگریس کے ابھیشیک بنرجی اور دیگر رہنما شامل تھے۔ مظاہرین گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے اور ان کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے۔ مظاہرین نے گیانیش کمار کو آر ایس ایس کے یونیفارم میں دکھانے والے کٹ آؤٹ بھی اٹھا رکھے تھے۔
پولیس کی جانب سے راستہ روکے جانے کے بعد راہل گاندھی اور ٹی ایم سی رہنما ابھیشیک بنرجی بیریکیڈ پر چڑھ گئے۔ پرینکا گاندھی کو کچھ دیر کے لیے پولیس بس میں لے جایا گیا، تاہم وہ جلد ہی بس سے اتر کر راہل گاندھی کے ساتھ آکاشوانی بھون کے گیٹ تک پہنچ گئیں۔ بعد ازاں راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور دیگر رہنما آکاشوانی بھون کے احاطے میں داخل ہو گئے اور ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر دھرنا شروع کر دیا۔
دھرنے کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ وہ پورے ملک کو بتانا چاہتے ہیں کہ پولیس آکاشوانی بھون سے میڈیا کے نمائندوں کو ہٹا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور پرینکا گاندھی الیکشن کمیشن کے دفتر جانے پر مصر ہیں، لیکن انہیں وہاں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔