ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / میسورو دسہرہ اردو مشاعرے میں ڈی کے شیوکمار کا خطاب، اردو شاعری کو مشترکہ تہذیب کا سرمایہ قرار دیا

میسورو دسہرہ اردو مشاعرے میں ڈی کے شیوکمار کا خطاب، اردو شاعری کو مشترکہ تہذیب کا سرمایہ قرار دیا

Mon, 19 Oct 2026 18:53:45    S O News

میسور و،19/اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیراعلیٰ ڈی کے شیو کمار نے کہا کہ ’’ادب کے ذریعے الفاظ میں جان ڈالی جاتی ہے اور دل کے جذبات کو شاعری کا روپ دیا جاتا ہے، جس میں انقلاب برپا کرنے کی قوت ہوتی ہے۔ ادب کی خوب صورتی صرف الفاظ میں نہیں، بلکہ دلوں میں بھی ہونی چاہیے۔‘‘ میسورو میں منعقدہ جشنِ دسہرہ اردو مشاعرے کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اردو شاعری کو ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کا قیمتی سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادب مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان فاصلے مٹانے اور دلوں کو قریب لانے کا ذریعہ ہے۔

انہوں نے اردو شاعری کی تہذیبی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ادب دلوں کو جوڑتا ہے اور اس کی خوب صورتی صرف الفاظ میں نہیں بلکہ دلوں میں بھی ہونی چاہیے۔ اپنے خطاب میں ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ اردو شاعری ہندوستانی تہذیب و ثقافت کا ایک خوب صورت اظہار ہے، جو مختلف زبانوں اور برادریوں کے درمیان محبت، ہم آہنگی اور اتحاد کو فروغ دیتی ہے۔ ادب انسانوں کو تقسیم کرنے کے بجائے ان کے درمیان قربت پیدا کرتا اور جذبات و خیالات کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کرناٹک کی اصل خوب صورتی اس کی لسانی اور ثقافتی گوناگونی اور مختلف روایات کے باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔

وزیر اعلیٰ نے اردو اور ہندی زبانیں سیکھنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے لیے ایک استاد مقرر کیا جائے تو وہ ان زبانوں کو سیکھنے کی کوشش کریں گے۔ ان کے اس اظہار نے زبانوں کے احترام اور مختلف تہذیبی روایات کو سمجھنے کی اہمیت کو نمایاں کیا۔

ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ کرناٹک کی اصل طاقت اس کے لسانی و ثقافتی تنوع اور باہمی ہم آہنگی میں پوشیدہ ہے۔ اردو شاعری ہندوستانی تہذیب کی ایسی خوب صورت روایت ہے جو محبت، رواداری اور مشترکہ اقدار کو فروغ دیتی ہے۔ ان کے مطابق، شاعری محض جذبات کے اظہار تک محدود نہیں رہتی، بلکہ معاشرے کے مسائل کو اجاگر کرنے اور لوگوں میں فکری بیداری پیدا کرنے کا وسیلہ بھی بنتی ہے۔

ایس آئی آر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ووٹوں کے تحفظ کی جدوجہد صرف کرناٹک تک محدود نہیں، بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں بھی اس حوالے سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ انہوں نے اقلیتی ووٹوں کے تحفظ کے لیے جاری تحریکوں کو مزید تیز کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کے کابینی رفقاء اس پیغام کے ساتھ تقریب میں شریک ہوئے ہیں کہ حکومت اقلیتوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے مفادات کا تحفظ اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کانگریس پارٹی کے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

میسورو دسہرہ کے ثقافتی پروگراموں میں شامل اس مشاعرے نے اردو شاعری کی روایت اور کرناٹک کی مشترکہ تہذیبی شناخت کو اجاگر کیا۔ تقریب میں سیاسی، سماجی اور ادبی حلقوں کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔

سابق وزیر اور رکن اسمبلی تنویر سیٹھ نے کہا کہ میسورو کی روایت مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے کی رہی ہے۔ انہوں نے اس مشترکہ تہذیبی روایت کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

ریاستی وزیر برائے شہری رسد و خوراک رضوان ارشد نے شاعر کے سماجی کردار کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ کوئی شاعر بزدل نہیں ہوسکتا اور کوئی بزدل شاعر نہیں ہوسکتا۔ ان کے مطابق، شاعر معاشرے کا نباض ہوتا ہے، جو اپنے کلام کے ذریعے سماجی حقائق، عوامی احساسات اور زمانے کے مسائل کو سامنے لاتا ہے۔

مشاعرے میں راجیہ سبھا کے رکن اور معروف شاعر عمران پرتاپ گڑھی، ریاستی وزراء یو ٹی قادر، ڈاکٹر یتیندرا سدارامیا، این چلوورایاسوامی، رضوان ارشد، ارکان اسمبلی تنویر سیٹھ، ہریش گوڑا اور درشن دھرو نارائن سمیت متعدد عوامی نمائندوں اور ادبی شخصیات نے شرکت کی۔

اس ادبی محفل میں شریک ممتاز شعراء میں تبریز منور رانا، ہمانشی ببرا، محشر آفریدی، ڈاکٹر آدتیہ جین، مونیکا دوبے، تبریز ہاشمی، منیر احمد جامی، خادم اظہر، عبدالوہاب سردار دانش، تنویر عظیم اور سہیل نظامی شامل تھے، جبکہ ندیم فرخ نے نظامت کی۔ ان شعراء کی شرکت نے مشاعرے کو ملک کی مختلف شعری آوازوں کے اجتماع میں تبدیل کیا۔

جشنِ دسہرہ کے اس مشاعرے نے یہ پیغام دیا کہ زبانیں اور ادب محض ثقافتی ورثہ نہیں، بلکہ سماجی شعور، جمہوری اقدار اور باہمی احترام کو مضبوط بنانے کی قوت بھی رکھتے ہیں۔ میسورو کی سرزمین پر اردو شاعری کی یہ محفل ریاست کی اس روایت کی عکاس بنی جس میں مختلف زبانوں اور ثقافتوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کو اہمیت دی جاتی ہے۔


Share: