بنگلورو/نئی دہلی ، 17/ اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی) احتجاجی مظاہروں، دھرنوں اور دیگر عوامی اجتماعات کی کوریج کے دوران صحافیوں کی حفاظت یقینی بنانے اور ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دینے کے لیے پریس کونسل آف انڈیا (پی سی آئی) نے نئی رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔ ان ہدایات کا مقصد میڈیا اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر تال میل پیدا کرنا، صحافیوں کو خطرات سے محفوظ رکھنا اور واقعات کی درست، غیر جانب دارانہ رپورٹنگ کو یقینی بنانا ہے۔ یہ رہنما ہدایات 14 اکتوبر 2026 کو ہونے والے اجلاس میں منظور کی گئیں اور 15 اکتوبر کو باضابطہ طور پر جاری کی گئیں۔
نئی ہدایات کے مطابق، احتجاجی مقامات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو اپنے ادارے کا مستند شناختی کارڈ یا پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) یا محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ (ڈی آئی پی) کا شناختی کارڈ نمایاں طور پر اپنے ساتھ رکھنا چاہیے۔ پولیس کی جانب سے شناخت دریافت کیے جانے پر انہیں پُرسکون انداز میں اپنی صحافتی شناخت واضح کرنی چاہیے۔
صحافیوں کو رپورٹنگ کے دوران غیر جانب داری اور پیشہ ورانہ اصولوں کی پابندی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہیں احتجاج میں شریک ہونے، لوگوں کو اشتعال دلانے یا پولیس کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے، تاکہ صحافت اور احتجاجی سرگرمیوں کے درمیان واضح فرق برقرار رہے۔
پریس کونسل نے صحافیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ تصادم کے امکانات والے مقامات سے محفوظ فاصلہ برقرار رکھیں۔ کیمرے یا ریکارڈنگ کے آلات پولیس کی رکاوٹوں اور گاڑیوں پر اس طرح نہ لگائے جائیں کہ آمدورفت یا کارروائی میں خلل پیدا ہو۔ بھیڑ کے دوران بھگدڑ سے بچنے کے لیے محتاط انداز میں حرکت کرنے اور حالات کی سنگینی کو مسلسل سمجھنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
صحافیوں کو ہجوم کے رویّے، ممکنہ جھڑپوں اور آس پاس موجود خطرات پر نظر رکھنے کے ساتھ ہنگامی صورتِ حال میں باہر نکلنے کے محفوظ راستوں کی پیشگی نشاندہی کرنی چاہیے، تاکہ خطرہ بڑھنے پر فوری طور پر محفوظ مقام تک پہنچا جاسکے۔
نئی رہنما ہدایات میں صحافیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ رپورٹنگ کے دوران ابتدائی طبی امداد کی کٹ، ضروری ادویات، پینے کا پانی، پروٹین سے بھرپور غذا، ٹارچ، چہرہ صاف کرنے کے لیے کپڑا اور آنکھوں کی حفاظت کے لیے چشمہ اپنے ساتھ رکھیں۔
آنسو گیس کے گولوں یا دھوئیں کے بموں کو ہاتھ لگانے اور انہیں اٹھا کر پھینکنے کی کوشش سے مکمل طور پر گریز کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ اس کا مقصد صحافیوں کو ایسے خطرات سے محفوظ رکھنا ہے جو احتجاجی مقامات پر اچانک پیدا ہوسکتے ہیں۔
پریس کونسل نے اس بات پر زور دیا ہے کہ فیلڈ میں کام کرنے والے صحافی اپنے نیوز روم سے مسلسل رابطے میں رہیں۔ فری لانس صحافیوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے ایڈیٹر یا کسی قابلِ اعتماد قریبی شخص کو اپنی رپورٹنگ کے مقام اور کام کے منصوبے سے آگاہ رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھی صحافیوں کی حفاظت کا خیال رکھنے اور مشکل حالات میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی ہے۔
رہنما ہدایات کے مطابق، احتجاجی واقعات کی رپورٹنگ درست معلومات، غیر جانب داری اور معروضیت پر مبنی ہونی چاہیے۔ متاثرین، نابالغ بچوں اور زخمی افراد کی تصاویر یا ویڈیوز نشر کرتے وقت ان کی رازداری، عزت اور سلامتی کا خاص خیال رکھا جائے۔
پولیس کی خفیہ کارروائیوں، نقل و حرکت کے راستوں یا عملی حکمتِ عملی کو حقیقی وقت میں نشر کرنے سے بھی گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، تاکہ رپورٹنگ کے نتیجے میں کسی کی جان یا سلامتی کو خطرہ لاحق نہ ہو۔
پریس کونسل آف انڈیا کی ان ہدایات کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ صحافی خطرناک حالات میں اپنی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے عوام تک قابلِ اعتماد معلومات پہنچائیں اور صحافت کے اخلاقی و پیشہ ورانہ اصولوں کو برقرار رکھیں۔