بنگلورو ، 20/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)ملک بھر میں سائبر جرائم اور آن لائن دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے درمیان حکومتِ کرناٹک اور ریاستی پولیس نے سائبر مجرموں کے خلاف سخت اور ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا ہے۔ سائبر فراڈ کے ذریعے ہتھیائی گئی رقم کو بینکوں میں منجمد (Lien Mark) کرنے کے معاملے میں کرناٹک نے نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملک میں دوسرا مقام حاصل کیا ہے۔
یہ بات ریاست کے وزیر داخلہ، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، بایو ٹیکنالوجی اور ای-گورننس پریانک کھرگے نے جمعہ کے روز بنگلورو کے ایم جی روڈ پر واقع پولیس وائرلیس مرکز کے دورے کے دوران کہی۔ انہوں نے مرکز میں موجود سہولتوں کا جائزہ لینے کے علاوہ اعلیٰ پولیس افسروں کے ساتھ ایک اہم اجلاس بھی منعقد کیا۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ سائبر فراڈ کے شکار شہریوں کی رقم کو بینکوں میں فوری طور پر منجمد کرنے کے معاملے میں کرناٹک پولیس نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں رپورٹ ہونے والی 3,203 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی میں سے 548 کروڑ روپے (17 فیصد) منجمد کیے گئے، جبکہ کرناٹک میں 2,640 کروڑ روپے کی رپورٹ شدہ دھوکہ دہی میں سے 436 کروڑ روپے (17 فیصد) رقم کامیابی کے ساتھ منجمد کرکے عوام کی محنت کی کمائی کو محفوظ بنایا گیا ہے۔
پریانک کھرگے نے بتایا کہ سال 2025 میں ویب پر مبنی شکایتی نظام اور 2026 میں واٹس ایپ چیٹ کے ذریعے شکایت درج کرانے کی سہولت شروع کیے جانے کے بعد عوام کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جنوری تا مئی 2026 کے صرف پانچ ماہ کے دوران پولیس وائرلیس یونٹ کو 10 لاکھ 33 ہزار 352 کالیں موصول ہوئیں، جبکہ 90 ہزار 225 شکایات درج کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ اس عرصے میں سائبر مجرموں نے تقریباً 807 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کی، تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 216 کروڑ روپے (27 فیصد) رقم کو منجمد کرنے میں کامیابی حاصل کی، جو ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔
وزیر داخلہ کے مطابق سائبر جرائم کی تحقیقات اور رقم کی بازیابی کو تیز تر بنانے کے لیے محکمہ پولیس نے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ بینکوں میں دھوکہ دہی کی رقم کو فوری طور پر منجمد کرنے کے لیے خصوصی بینک فالو اپ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ وائرلیس یونٹ کے عملے کو سائبر جرائم، سسٹم ایڈمنسٹریشن اور انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر (I4C) پلیٹ فارم کے استعمال سے متعلق خصوصی تربیت بھی فراہم کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بینکوں سے مسلسل رابطہ، سی سی ٹی وی فوٹیج کے حصول، منجمد رقم کو متاثرین کو واپس دلانے اور ایف آئی آر درج کرنے کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے خصوصی رابطہ افسران (Liaison Officers) بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
پریانک کھرگے نے کہا کہ عوام کو آسانی سے شکایت درج کرانے کی سہولت فراہم کرنے اور نظام کو خودکار بنانے کے لیے کئی جدید تکنیکی اصلاحات کی گئی ہیں۔ 2025 میں ویب بیسڈ کمپلینٹ بوٹ اور 2026 میں واٹس ایپ کمپلینٹ بوٹ متعارف کرایا گیا ہے۔ شکایات کی نوعیت کے مطابق کالوں کی درجہ بندی اور خودکار کارروائی کے لیے آئی وی آر ایس (IVRS) ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ I4C پلیٹ فارم کے ذریعے بینک لین دین کو فوری طور پر روکنے کے لیے 51 پولیس سب انسپکٹروں (PSI) اور ہیڈ کانسٹیبلوں (HC) کو خصوصی طور پر تعینات کیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور پولیس افسروں کی بروقت کارروائی کی بدولت کرناٹک سائبر مجرموں کے نیٹ ورک کو توڑنے اور عوام کی رقم کے تحفظ میں ملک کی صفِ اول کی ریاستوں میں شامل ہو چکا ہے۔ انہوں نے پولیس وائرلیس نظام کو مزید جدید اور مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل آف پولیس و انسپکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر ایم اے سلیم، کرناٹک کمیونیکیشن اینڈ لاجسٹکس ونگ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ایس مرگن سمیت دیگر اعلیٰ پولیس افسران شریک تھے۔