ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک کے 2 ہزار سرکاری اسکولوں کی ترقی کا منصوبہ، نجی تعلیمی اداروں سے تعاون کی اپیل

کرناٹک کے 2 ہزار سرکاری اسکولوں کی ترقی کا منصوبہ، نجی تعلیمی اداروں سے تعاون کی اپیل

Thu, 05 Nov 2026 11:27:03    S O News
کرناٹک کے 2 ہزار سرکاری اسکولوں کی ترقی کا منصوبہ، نجی تعلیمی اداروں سے تعاون کی اپیل

بنگلورو ، 5/ نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے ریاست کے نجی تعلیمی اداروں کے منتظمین سے اپیل کی ہے کہ وہ دیہی علاقوں کے سرکاری اسکولوں کو گود لے کر ان کی ترقی اور معیارِ تعلیم کو بہتر بنانے میں حکومت کا تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے تحت ایک نئی پالیسی نافذ کی ہے، جس کا مقصد سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔

بدھ کے روز ودھان سودھا کے بنکویٹ ہال میں منعقدہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری سے متعلق نمائندوں کے اجلاس میں ’’ہمارا اسکول، ہماری ذمہ داری‘‘ پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں ایک ہزار سرکاری اسکولوں کو نجی تعلیمی اداروں سے مربوط کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مجموعی طور پر دو ہزار سرکاری اسکولوں کو اس منصوبے کے تحت ترقی دینے کا ارادہ ہے۔

ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ دیہی علاقوں کے سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو بھی نجی اسکولوں کے طلبہ جیسی معیاری تعلیم اور سہولتیں فراہم کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ انہیں بہتر مستقبل کے مواقع حاصل ہوسکیں۔ ریاست کی تقریباً 6 ہزار گرام پنچایتوں کو تین زمروں میں تقسیم کرتے ہوئے اس منصوبے کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں ایک ہزار سرکاری اسکولوں کی ترقی کے لیے نجی تعلیمی اداروں کے اشتراک کا ہدف رکھا گیا ہے۔ آئندہ چار سے پانچ برسوں میں اس کوشش کے مثبت نتائج سامنے آنے کی امید ہے۔

انہوں نے نجی اسکولوں کے منتظمین سے کہا کہ حکومت ان کے لیے اسکولوں کا انتخاب نہیں کرے گی بلکہ وہ اپنی سہولت اور مالی استطاعت کے مطابق کسی بھی سرکاری اسکول کو منتخب کرسکتے ہیں۔ اگر کوئی ادارہ 5 سے 10 کروڑ روپے خرچ کرکے عمارت تعمیر کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تو وہ اپنے ماہر اساتذہ، تعلیمی وسائل اور دیگر سہولتیں فراہم کرکے بھی تعاون کرسکتا ہے۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ نجی اسکول اپنے دس اساتذہ کو سرکاری اسکولوں میں خدمات انجام دینے کے لیے روانہ کرسکتے ہیں اور ان کی تنخواہوں کی ذمہ داری بھی خود اٹھا سکتے ہیں۔ اسی طرح اسکول بسیں، لیبارٹری کا سامان اور کمپیوٹر فراہم کرکے بھی سرکاری تعلیمی اداروں کو فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام محض مالی تعاون نہیں بلکہ تعلیمی مہارت اور علم کے تبادلے کا ذریعہ بھی بنے گا۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ریاست میں ہر سال تقریباً 8,800 کروڑ روپے سی ایس آر فنڈ کے تحت دستیاب ہوتے ہیں۔ انہوں نے ریاست کی مختلف کمپنیوں کے انتظامی بورڈس سے بات چیت کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ اس فنڈ کے استعمال میں دیہی علاقوں کے سرکاری پرائمری اسکولوں کی ترقی کو اولین ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کئی کمپنیوں نے اس سلسلے میں کام شروع کردیا ہے اور اب نجی تعلیمی اداروں کی باری ہے کہ وہ اس مہم میں حصہ لیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں انہوں نے چیف سکریٹری اور مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن سے بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔ بعض کمپنیاں ممبئی میں دفاتر قائم کرکے کرناٹک میں اپنی کمپنیوں کا اندراج کرواتی ہیں، لیکن یہاں حاصل ہونے والی آمدنی کو دوسری ریاستوں میں خرچ کرتی ہیں۔ انہوں نے اس طرزِ عمل پر روک لگانے اور سی ایس آر فنڈ کی مناسب تقسیم کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈی کے شیوکمار نے بتایا کہ بنگلورو جنوبی ضلع کے 30 سرکاری اسکولوں میں کمپنیوں کے سی ایس آر فنڈ کے ذریعے ترقیاتی کام شروع کیے گئے ہیں۔ ان میں 10 فیصد اسکولوں کے کام مکمل ہوچکے ہیں، 8 اسکولوں میں کام جاری ہے جبکہ 12 اسکولوں کے ساتھ معاہدے مکمل کرلیے گئے ہیں۔

انہوں نے ٹویوٹا کمپنی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے رام نگر ضلع میں 23 اسکولوں کی تعمیر اور ترقی کے لیے تعاون کیا ہے اور ہر اسکول پر تقریباً 10 سے 15 کروڑ روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔ حکومت نے عمارتوں کی تعمیر کے لیے نقشے بھی فراہم کیے ہیں، تاہم سی ایس آر کے تحت حاصل ہونے والی رقم حکومت اپنے پاس نہیں لے گی۔

انہوں نے کہا کہ جو نجی تعلیمی ادارے سرکاری اسکولوں کی ترقی میں تعاون کریں گے، انہیں سرکاری اسکول کے نام کے ساتھ اپنے ادارے کا نام شامل کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ اس سلسلے میں تمل ناڈو کی سرحد سے متصل ہیگنور سرکاری اسکول کو ’’ہیگنور گورنمنٹ ٹویوٹا اسکول‘‘ کا نام دینے کی اجازت دی گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نجی تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون کا مثبت رویہ رکھتی ہے اور ان اداروں کو چلانے میں درپیش مشکلات سے بھی واقف ہے۔ نجی اسکولوں نے ریاست کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر ان کی معیاری تعلیم اور تجربات کا کچھ حصہ سرکاری اسکولوں تک پہنچایا جائے تو دیہی علاقوں کے طلبہ کو تعلیم کے لیے شہروں کا رخ کرنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نجی اسکولوں کے منتظمین بھی دیہی پس منظر رکھتے ہیں، اس لیے انہیں اپنے آبائی علاقوں کے اسکولوں کی ترقی کے لیے آگے آنا چاہیے۔ سرکاری اسکولوں کو گود لینا اور ان کی بنیادی سہولتوں کو بہتر بنانا سماجی ذمہ داری کے ساتھ ایک قومی خدمت بھی ہے۔

ڈی کے شیوکمار نے بتایا کہ حکومت نے عالمی بینک سے دو ہزار کروڑ روپے کا قرض حاصل کرکے کرناٹک پبلک اسکولوں (کے پی ایس) کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے اقدامات شروع کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کو ماہانہ 70 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک تنخواہیں دی جارہی ہیں، اس کے باوجود تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے تحت اساتذہ کے انتخاب میں ان کی صلاحیت اور معیار پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کے منتظمین دراصل ان اداروں کے امانت دار ہوتے ہیں۔ آج ایک شخص ذمہ داری سنبھالتا ہے تو کل کوئی دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے، لیکن اداروں کی ترقی کے لیے کیے گئے اچھے کام ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔ انہوں نے نجی اسکولوں سے اپیل کی کہ وہ سرکاری اسکولوں کے ساتھ شراکت داری کرکے انہیں بھی اپنے تعلیمی معیار کے مساوی لانے میں تعاون کریں۔ ایک نجی اسکول کو تین سرکاری اسکول گود لینے کا موقع بھی فراہم کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے عالمی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک علیحدہ محکمہ قائم کیا ہے اور بیرون ملک مقیم کئی افراد بھی اپنے آبائی دیہات کے اسکولوں کی ترقی کے لیے تعاون کرنے آگے آرہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے بنگلورو میں بڑھتی ہوئی آبادی، ٹریفک اور تعلیمی اداروں کے باعث پیدا ہونے والے دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں سڑکوں کی توسیع کی شرح تقریباً 8 فیصد ہے، جبکہ میسور میں یہ شرح 18 سے 20 فیصد کے درمیان ہے۔ بنگلورو کی آبادی تقریباً 1.40 کروڑ تک پہنچ چکی ہے اور گاڑیوں کی تعداد بھی ایک کروڑ 20 لاکھ کے قریب ہے۔

انہوں نے کہا کہ کئی بچوں کو اسکول پہنچنے کے لیے روزانہ ایک گھنٹے تک سفر کرنا پڑتا ہے۔ بنگلورو میں ٹریفک کے دباؤ کی اہم وجوہات میں روزگار اور تعلیم بھی شامل ہیں۔ ہر والدین اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دلانے کے لیے ہر ممکن قربانی دینے کو تیار رہتے ہیں۔ اگر دیہی علاقوں میں ہی معیاری تعلیمی سہولتیں فراہم کردی جائیں تو تعلیم کے لیے شہروں کی جانب نقل مکانی کم ہوگی اور بنگلورو پر بڑھتا ہوا دباؤ بھی کم کیا جاسکے گا۔

ڈی کے شیوکمار نے اساتذہ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح جمہوریت کے چار ستون ہوتے ہیں، اسی طرح معاشرے کے بھی چار اہم ستون کسان، مزدور، فوجی اور استاد ہیں۔ اساتذہ کو ریاست اور ملک کی خدمت کے جذبے کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں بین الاقوامی معیار کے 140 اسکول ہیں، جن میں سے 38 کرناٹک میں واقع ہیں۔ انہوں نے کنتھیراوا اسٹیڈیم میں منعقدہ کرناٹک راجیہ اتسو تقریب میں سرکاری اسکولوں کے بچوں کے ثقافتی مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی صلاحیت، نظم و ضبط اور کارکردگی دیکھ کر وہ بے حد متاثر ہوئے۔ ان بچوں میں کسی بھی دوسرے اسکول کے طلبہ سے کم صلاحیت نہیں ہے، ضرورت صرف ان کی صلاحیتوں کو مناسب مواقع فراہم کرنے کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان بچوں کو دسہرہ جیسے بڑے ثقافتی پروگراموں میں بھی شرکت کا موقع دیا جانا چاہیے۔ ڈی کے شیوکمار نے تمام نجی تعلیمی اداروں کے منتظمین سے اپیل کی کہ وہ ریاست کی مجموعی ترقی اور بالخصوص دیہی علاقوں کی تعلیمی و سماجی ترقی میں فعال شراکت دار بنیں۔


Share: