ٹمکورو ، 10/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی ) نائب وزیر اعلیٰ اور محکمہ محصولات کے وزیر ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا ہے کہ ٹمکورو ضلع کے بعض تعلقہ جات میں اب تک خاطر خواہ بارش نہ ہونے کے باعث خشک سالی کی سنگین صورتحال پیدا ہوگئی ہے، جس کے پیش نظر وہ آج اور کل ضلع کے تمام تعلقہ جات کا ذاتی طور پر دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ آج صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اور انہوں نے ریاست کو تین حصوں میں تقسیم کرکے مختلف اضلاع اور تعلقہ جات میں بارش اور خشک سالی کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ وہ پہلے ہی 4 سے 5 اضلاع کا دورہ کرچکے ہیں، تاہم ٹمکورو ضلع کے سرا، چکنایکنہلی اور پاؤگڈھ سمیت بعض دیگر تعلقہ جات میں صورتحال تشویشناک ہے، اس لیے آج اور کل وہاں جاکر زمینی حالات کا براہِ راست جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ملبار اور ساحلی اضلاع کو چھوڑ کر ریاست کے بیشتر علاقوں میں قابلِ ذکر بارش نہیں ہوئی ہے۔ کرشنا راج ساگر اور کابی نی آبی ذخائر میں پانی کی سطح میں معمولی اضافہ ہوا ہے، جبکہ مہاراشٹرا کے علاقوں میں ہوئی بارش کے باعث شمالی کرناٹک کے المٹی اور نارائن پور آبی ذخائر میں بھی کچھ پانی جمع ہوا ہے۔ تاہم، خشک علاقوں میں صورتحال سنگین بنی ہوئی ہے۔ حکومت خشک سالی کی مکمل صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور بعض ضروری اقدامات پہلے ہی شروع کیے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی اجلاس میں بھی اس مسئلے پر بحث کا امکان ہے۔
قلمدانوں کی تقسیم سے متعلق سوال پر نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس معاملے میں کسی قسم کا کوئی بڑا انتشار نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے گزشتہ روز اعلیٰ قیادت کے ساتھ اس سلسلے میں بات چیت کی ہے۔ نئے وزراء کو ابتدائی مرحلے میں اپنے محکموں اور انتظامی امور کے حوالے سے کچھ الجھن ہونا فطری ہے، بعد میں متعلقہ افسران انہیں مکمل وضاحت فراہم کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسمبلی میں اپنے محکموں سے متعلق سوالات کے جوابات دینے کے لیے پوری طرح اہل ہیں اور اس سلسلے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
نائس سڑک منصوبے کے سلسلے میں سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی کی جانب سے عوام سے ٹول ادا نہ کرنے کی اپیل کے بارے میں پوچھے جانے پر ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اور وہ پہلے سے ہی اس منصوبے کی مخالفت کرتے آرہے ہیں۔ حکومت اس منصوبے سے متعلق مسائل کو جلد حل کرنے کی کوشش کررہی ہے اور انہیں اس سلسلے میں قائم ذیلی کمیٹی کا صدر بنایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 7 سے 8 اجلاس منعقد کیے جاچکے ہیں اور منصوبے سے متعلق مسائل کو مختلف زمروں میں تقسیم کرکے ان کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتنے برس گزرنے کے بعد منصوبے کو اچانک روکنا ممکن نہیں، تاہم قانونی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ منصوبے سے ہونے والے فوائد اور ممکنہ بے ضابطگیوں کا بھی بعد میں جائزہ لیا جائے گا، تاہم فی الحال حکومت کی ترجیح منصوبے کو مکمل کرنا ہے۔
بڈدی ٹاؤن شپ کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی اور جنتا دل سیکولر کی جانب سے نکالی جانے والی پدیاترا کے بارے میں سوال پر نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اپوزیشن کو احتجاج کرنے کا حق ہے اور وہ احتجاج کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے بڈدی میں مصنوعی ذہانت کے ایک بڑے مرکز کے قیام کی تجویز کا ذکر کیا ہے، اس لیے اپوزیشن کو بھی اس منصوبے کو مثبت نقطۂ نظر سے دیکھنا چاہیے۔
بنگلورو کے دوسرے ہوائی اڈے کو ٹمکورو میں قائم کرنے سے متعلق مرکزی وزیر وی سومنا کی جانب سے خط لکھے جانے کے بارے میں ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ وہ خود بھی ابتدا ہی سے ٹمکورو میں دوسرے ہوائی اڈے کے قیام کی بات کرتے رہے ہیں۔ تاہم اس سلسلے میں تکنیکی امکانات اور منصوبے سے ہونے والے فوائد کا تفصیلی جائزہ ضروری ہے۔ اگر دوسرا ہوائی اڈہ تمکورو میں قائم ہوتا ہے تو اس سے تقریباً 20 اضلاع کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور موجودہ کیمپے گوڈا بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ساتھ رابطہ قائم کرنا بھی نسبتاً آسان ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہوائی اڈے کے قیام کی تکنیکی موزونیت کے بارے میں شہری ہوا بازی کے ڈائریکٹوریٹ جنرل کی جانب سے جائزہ لیا جائے گا اور اسی کے بعد حتمی فیصلہ ممکن ہوگا۔