بیروت، واشنگٹن، تہران 17 اپریل (ایس او نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری کشیدگی میں گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اور خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق لبنان محاذ پر عارضی جنگ بندی نافذ ہونے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو محدود شرائط کے ساتھ کھولنے کے بعد خطے میں وقتی سکون دیکھا جا رہا ہے، تاہم مجموعی صورتحال بدستور نہایت نازک اور غیر یقینی ہے۔
الجزیرہ، رائٹرز اور گارجین کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان تقریباً دس روزہ جنگ بندی نافذ العمل ہے، جسے کشیدگی میں کمی کی ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود اسرائیلی حکام نے واضح کیا ہے کہ فوجی کارروائیاں مکمل طور پر ختم نہیں کی گئی ہیں، جبکہ سرحدی علاقوں سے وقفے وقفے سے تناؤ کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی کمزور بنیادوں پر قائم ہے اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں حالات دوبارہ بگڑ سکتے ہیں۔
دوسری جانب لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تو اسے فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حزب اللہ قیادت نے واضح کیا ہے کہ ان کے جنگجو مکمل تیاری میں ہیں اور کسی بھی ممکنہ کارروائی کیلئے تیار رہیں گے، جس سے خطے میں غیر یقینی صورتحال مزید گہری ہو گئی ہے۔
ایرانی میڈیا اور عالمی خبر رساں اداروں، بشمول رائٹرز اور واشنگٹن پوسٹ، کے مطابق ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کیلئے دوبارہ کھول دیا گیا ہے، تاہم یہ مکمل آزادی کے بجائے ایک کنٹرولڈ نظام کے تحت ہوگا۔ رپورٹس کے مطابق جہازوں کو مخصوص اور ایران کی نگرانی میں طے شدہ راستوں پر سفر کرنا ہوگا اور سیکیورٹی کلیئرنس لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ خطے میں امریکی بحری موجودگی بھی برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام کشیدگی کم کرنے کی ایک کوشش ضرور ہے، لیکن اس سے مکمل بحری آزادی بحال نہیں ہوئی۔
ادھر عالمی منڈیوں میں بھی اس پیش رفت کا فوری اثر دیکھا گیا ہے۔ رائٹرز اور دیگر مالیاتی رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کھلنے کی خبر کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی اور عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بہتری دیکھی گئی۔ اس کے باوجود شپنگ اور انشورنس کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں سیکیورٹی خدشات بدستور موجود ہیں، جس کے باعث بحری سرگرمیاں مکمل طور پر معمول پر نہیں آ سکیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی سطح پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک ممکنہ معاہدہ قریب ہے، جبکہ امریکہ نے ایران پر بحری دباؤ برقرار رکھنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے بھی مذاکرات جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق زمینی صورتحال اب بھی پیچیدہ اور غیر مستحکم ہے۔
مجموعی طور پر بین الاقوامی خبر رساں ادارے موجودہ صورتحال کو مکمل امن کے بجائے ایک عارضی وقفہ قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ فوری طور پر بڑے تصادم کا خطرہ کسی حد تک کم ہوا ہے، لیکن حزب اللہ، اسرائیل اور ایران کے بیانات اور فوجی تیاریوں کو دیکھتے ہوئے یہ خدشہ برقرار ہے کہ کسی بھی معمولی واقعے سے صورتحال دوبارہ سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔