ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کلبرگی میں عوامی مسائل پر وزیر پریانک کھرگے کی برہمی، فوری اقدامات کا حکم

کلبرگی میں عوامی مسائل پر وزیر پریانک کھرگے کی برہمی، فوری اقدامات کا حکم

Sun, 12 Apr 2026 12:08:43    S O News

کلبرگی، 12/اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی) کلبرگی مہانگر پالیکا کی ترقیاتی جائزہ میٹنگ میں ریاستی وزیر برائے دیہی ترقی و پنچایت راج اور ضلع انچارج پریانک کھرگے نے مختلف عوامی مسائل پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے افسران کو فوری اقدامات کی ہدایت دی۔

وزیر موصوف نے آشریہ اسکیم کے تحت پللاپور-جعفرآباد علاقے میں منتخب 695 مستحقین کے لیے مکانات کی تعمیر میں تاخیر پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ برسوں سے زیر التوا منصوبہ فوری مکمل ہونا چاہیے۔ افسران نے بتایا کہ فنڈ کی کمی اور زمین کے تنازعات کے باعث کام رکا ہوا تھا، تاہم اب دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔

انہوں نے ہدایت دی کہ زمین کے ریکارڈ درست کر کے جلد از جلد حقِ ملکیت (پٹہ) تقسیم کیا جائے اور بنیادی سہولیات کا آڈٹ کرایا جائے۔

میٹنگ میں تاخیر سے پہنچنے والے افسران کو وزیر موصوف نے سخت سرزنش کرتے ہوئے انہیں اجلاس سے باہر نکال دیا اور معطلی کی ہدایت بھی دی۔

شہر میں پھیلے کچرے، پلاسٹک اور تعمیراتی ملبے پر شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ رنگ روڈ کے اطراف گندگی شہر کی شبیہ خراب کر رہی ہے۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر صفائی کا مناسب انتظام نہ ہوا تو شہر ترقیاتی منصوبوں سے محروم رہ سکتا ہے۔ ہوٹلوں اور دیگر تجارتی اداروں سے نکلنے والے فضلے کو سائنسی طریقے سے ٹھکانے لگانے کی بھی ہدایت دی گئی۔

اسی میٹنگ میں وزیر موصوف نے مہانگر پالیکا کے 935 صفائی ملازمین کو ہر اتوار ایک ساتھ چھٹی دینے کے فیصلے کو غیر سائنسی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک ہی دن چھٹی دینے سے کچرا جمع ہو جاتا ہے اور اگلے دن دباؤ بڑھ جاتا ہے، اس لیے ملازمین کو مختلف دنوں میں چھٹی دی جائے تاکہ صفائی کا نظام متاثر نہ ہو۔

انہوں تاریخی قلعہ کے اندر موجود مکانات کو خالی کرانے کی ہدایت، پانی کے ذرائع کی بحالی اور قدیم کنوؤں و تالابوں کی مرمت پر زور، افسران کو عوام کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے اور فون کالز کا جواب دینے کی تاکید، جائیدادوں کی نشاندہی کے لیے خصوصی مہم چلانے کی ہدایت دی۔

میٹنگ میں اراکین اسمبلی، کارپوریٹرز اور مختلف محکموں کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔


Share: