نئی دہلی ، 9/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی)سپریم کورٹ نے جمعہ کو مدھیہ پردیش حکومت کو سخت پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ قبائلی امور کے وزیر کنور وجے شاہ کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری دینے کے معاملے میں عدالت کے حکم پر اب تک عمل کیوں نہیں کیا گیا۔ یہ معاملہ ہندوستانی فوج کی افسر کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف دیے گئے متنازع بیان سے جڑا ہوا ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی کی بنچ نے سماعت کے دوران ریاستی حکومت سے سوال کیا کہ دو ہفتوں کے اندر فیصلہ لینے کی ہدایت کے باوجود اب تک منظوری کے معاملے پر پیش رفت کیوں نہیں ہوئی۔ عدالت نے کہا کہ اس تاخیر کی کوئی مناسب وجہ سامنے نہیں آئی۔
سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ وجے شاہ کا بیان افسوسناک تھا اور ممکن ہے کہ وہ کرنل صوفیہ قریشی کی تعریف کرنا چاہتے تھے لیکن اپنی بات صحیح انداز میں پیش نہیں کر سکے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے، مدھیہ پردیش حکومت کا موقف نہیں۔
تاہم سپریم کورٹ اس دلیل سے مطمئن نظر نہیں آیا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ یہ صرف افسوسناک بیان نہیں بلکہ انتہائی افسوسناک معاملہ ہے۔ عدالت نے کہا کہ سیاست داں عوامی بیانات دیتے وقت اپنے الفاظ کے انتخاب میں کافی محتاط ہوتے ہیں اور انہیں اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ کسی کی تعریف کس انداز میں کرنی ہے۔
بنچ نے یہ بھی کہا کہ اگر واقعی یہ زبان پھسلنے کا معاملہ ہوتا تو فوری طور پر کھلے دل سے معافی مانگی جاتی۔ عدالت نے وجے شاہ کی معافی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عدالتی کارروائی شروع ہونے کے بعد معافی مانگنا حقیقی ندامت کا اظہار نہیں ہے۔ عدالت کے مطابق محض خط لکھ دینا کافی نہیں تھا بلکہ فوری طور پر ہاتھ جوڑ کر عوامی معافی مانگنی چاہیے تھی۔
اس دوران خصوصی جانچ ٹیم کی پیش کردہ اسٹیٹس رپورٹ کا بھی ذکر کیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وجے شاہ کو اس طرح کے بیانات دینے کی عادت رہی ہے۔ وجے شاہ کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل منیندر سنگھ نے کہا کہ وزیر پہلے ہی عوامی طور پر معافی مانگ چکے ہیں، جبکہ تشار مہتا نے بھی کہا کہ انہوں نے ٹیلی ویژن پر ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی تھی۔
سپریم کورٹ نے آخر میں مدھیہ پردیش حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اپنے سابقہ حکم پر عمل کرتے ہوئے مقدمہ چلانے کی منظوری کے معاملے میں جلد فیصلہ کرے اور پورے حالات کو سامنے رکھ کر غور کرے۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت چار ہفتے بعد مقرر کی ہے۔
اس سے پہلے سپریم کورٹ نے 19 جنوری کو مدھیہ پردیش حکومت کو ہدایت دی تھی کہ خصوصی جانچ ٹیم کی سیل بند رپورٹ کھولنے کے بعد دو ہفتوں کے اندر منظوری کے معاملے پر فیصلہ لیا جائے۔ رپورٹ میں جانچ ٹیم نے وجے شاہ کے خلاف کارروائی آگے بڑھانے کے لیے منظوری مانگی تھی۔