ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / اسمبلی انتخابات: مغربی بنگال میں 293 نشستوں کے رجحانات میں بی جے پی آگے، ممتا کو سخت ٹکر؛ تمل ناڈو میں وجئے کی نئی پارٹی کو برتری

اسمبلی انتخابات: مغربی بنگال میں 293 نشستوں کے رجحانات میں بی جے پی آگے، ممتا کو سخت ٹکر؛ تمل ناڈو میں وجئے کی نئی پارٹی کو برتری

Mon, 04 May 2026 12:15:58    S O News
اسمبلی انتخابات: مغربی بنگال میں 293 نشستوں کے رجحانات میں بی جے پی آگے، ممتا کو سخت ٹکر؛ تمل ناڈو میں وجئے کی نئی پارٹی کو برتری

نئی دہلی/کولکاتا/چنئی، 4 مئی (ایس او نیوز): ہندوستان کی پانچ اہم ریاستوں—مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالا، آسام اور پڈوچیری—میں جاری ووٹوں کی گنتی کے دوران سامنے آنے والے تازہ ترین رجحانات نے ملک کی سیاست کو ایک مرتبہ پھر غیر یقینی اور سنسنی خیز مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی نگرانی میں صبح آٹھ بجے شروع ہونے والی گنتی کے بعد ابتدائی رجحانات تیزی سے بدلتے دکھائی دے رہے ہیں، اور مختلف میڈیا ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ حتمی نتائج تک پہنچنے میں ابھی وقت درکار ہوگا۔

مغربی بنگال میں اب تک ۲۹۳ نشستوں کے رجحانات سامنے آ چکے ہیں، اور ان رجحانات نے ایک سخت اور کانٹے دار مقابلے کی تصویر پیش کی ہے۔ تازہ میڈیا اپڈیٹس کے مطابق بی جے پی تقریباً ۱۳۸ نشستوں پر آگے چل رہی ہے جبکہ ترنمول کانگریس ۱۲۴ نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے، جب کہ بائیں محاذ ایک نشست اور دیگر دو نشستوں پر آگے ہیں، جبکہ ایک نشست کا رجحان تاحال زیر التوا بتایا جا رہا ہے۔ ۲۹۴ رکنی اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے ۱۴۸ نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے، اور موجودہ رجحانات کے مطابق کوئی بھی جماعت ابھی واضح اکثریت حاصل کرتی دکھائی نہیں دے رہی، جس کے باعث ہنگ اسمبلی کے امکانات بھی زیر بحث ہیں۔

مقامی بنگالی میڈیا، بشمول ٹیلی ویژن چینلز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بی جے پی کی موجودہ برتری کو حتمی نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ دیہی علاقوں کے ووٹوں کی گنتی ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق ترنمول کانگریس کا روایتی ووٹ بینک دیہی علاقوں میں مضبوط ہے، اور جیسے جیسے وہاں کے نتائج سامنے آئیں گے، رجحانات میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ کولکاتا سے شائع ہونے والے اخبار دی ٹیلیگراف  نے بھی اپنی تازہ کوریج میں اس مقابلے کو “انتہائی قریبی اور غیر یقینی” قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ابتدائی برتری کو فیصلہ کن نتیجہ سمجھنا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ کئی کلیدی حلقوں کے نتائج ابھی آنا باقی ہیں۔

ادھر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے حلقۂ انتخاب بھوانی پور میں بھی انتہائی سخت مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ابتدائی راؤنڈز میں ان کے پیچھے ہونے کی خبریں سامنے آئی تھیں، تاہم بعد کے مرحلوں میں انہوں نے واپسی کی اور تازہ اطلاعات کے مطابق وہ بی جے پی امیدوار  کے مقابلے میں تقریباً ڈھائی ہزار ووٹوں کی معمولی برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس نشست کا نتیجہ نہ صرف علامتی بلکہ عملی طور پر بھی انتہائی اہم ہوگا، کیونکہ اس کا اثر ریاست میں حکومت سازی اور قیادت کی ساکھ دونوں پر پڑ سکتا ہے۔

میڈیا تجزیوں میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بی جے پی کی ابتدائی برتری بڑی حد تک گنتی کے پیٹرن سے جڑی ہوئی ہے، جہاں شروع میں شہری اور نیم شہری علاقوں کے ووٹ گنے گئے، جن میں بی جے پی کی کارکردگی نسبتاً بہتر رہی۔ اس کے برعکس دیہی علاقوں کے نتائج، جہاں ترنمول مضبوط سمجھی جاتی ہے، بعد کے مرحلوں میں سامنے آ رہے ہیں، جس کے باعث رجحانات میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ بعض بنگالی چینلز اور سوشل میڈیا اپڈیٹس میں بھی یہی تاثر دیا جا رہا ہے کہ “ابتدائی لیڈ کسی بھی وقت پلٹ سکتی ہے” اور مقابلہ آخری راؤنڈز تک جا سکتا ہے۔

تمل ناڈو میں صورتحال اس سے بالکل مختلف مگر اتنی ہی دلچسپ ہے، جہاں فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والے جوسف وجئے چندرا شیکھر کی قیادت میں نئی سیاسی جماعت نے غیر معمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے روایتی سیاسی جماعتوں کو سخت چیلنج دے دیا ہے۔ تازہ رجحانات کے مطابق یہ جماعت تقریباً ۸۰ سے ۹۰ نشستوں پر آگے ہے، جبکہ ڈی ایم کے ۵۰ سے ۶۰ اور اے آئی اے ڈی ایم کے ۳۰ سے ۴۰ نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس پیش رفت نے ریاست کی دہائیوں پر محیط دو جماعتی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ نئی سیاسی پارٹی حکومت سازی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

کیرالا: بائیں محاذ کو ابتدائی برتری کے بعد یو ڈی ایف کی مضبوط واپسی

کیرالا میں ووٹوں کی گنتی کے ابتدائی مراحل میں بائیں محاذ کو واضح برتری حاصل ہوتی دکھائی دے رہی تھی، تاہم جیسے جیسے گنتی کے مزید راؤنڈز مکمل ہوئے، رجحانات میں نمایاں تبدیلی سامنے آئی اور کانگریس کی قیادت والے یو ڈی ایف نے کئی اہم نشستوں پر واپسی کرتے ہوئے مقابلے کو نہایت قریبی بنا دیا۔ ملیالم میڈیا کی لائیو کوریج کے مطابق اب صورتحال یہ ہے کہ متعدد حلقوں میں معمولی ووٹوں کے فرق سے لیڈ مسلسل تبدیل ہو رہی ہے، جس کے باعث کسی بھی اتحاد کی واضح برتری کا دعویٰ قبل از وقت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایشیانیٹ نیوز، منورما نیوز، ماتھرو بھومی نیوز اور ٹوئنٹی فور نیوز سمیت اہم ملیالم میڈیا اداروں نے اپنی تازہ اپڈیٹس میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ابتدائی رجحانات کے برعکس اب یو ڈی ایف کئی حلقوں میں مضبوطی دکھا رہا ہے، جبکہ مجموعی طور پر ریاست میں مقابلہ انتہائی سخت اور غیر یقینی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اور حتمی نتیجہ آنے والے راؤنڈز پر منحصر ہوگا۔

آسام میں بی جے پی اتحاد واضح سبقت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، جب کہ پڈوچیری میں بھی اسے معمولی برتری حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔


Share: