بنگلورو ،22/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)کرناٹک میں ہونے والے ایس آئی آر کے حوالے سے سماجی کارکن اور مصنف شیوسندر نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست میں تقریباً 1.5 کروڑ ووٹر ایس آئی آر سے متاثر ہونے جا رہے ہیں، جو 2025 میں درج کل ووٹروں کا تقریباً 27.27 فیصد بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے موجودہ طریقۂ کار کے تحت لاکھوں ووٹروں کو اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے دستاویزات پیش کرنے کی نوبت آسکتی ہے۔
شیوسندر کے مطابق ریاست میں اے ایس ڈی ڈی او زمرے میں 1.07 کروڑ، غیر نقشہ شدہ ووٹروں کی تعداد 23.45 لاکھ اور منطقی تضادات والے ووٹروں کی تعداد 20.35 لاکھ ہے۔ ان اعداد و شمار کو جوڑنے پر تقریباً 1.5 کروڑ ووٹر ایس آئی آر کے اثرات کی زد میں آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان میں سے تقریباً 43 لاکھ ووٹروں کو نوٹس جاری کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ تقریباً 1.07 کروڑ ووٹروں کو کسی نوٹس کے بغیر اے ایس ڈی ڈی او زمرے میں رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق نوٹس حاصل کرنے والے ووٹروں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ اے ایس ڈی ڈی او زمرے میں شامل افراد کو بھی اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے انتخابی کمیشن کی جانب سے مقرر کردہ دستاویزات میں سے کسی ایک کا سہارا لینا پڑ سکتا ہے۔
شیوسندر نے کہا کہ کرناٹک کے چیف الیکٹورل افسر پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ آدھار کارڈ تنہا کافی نہیں ہوگا۔ اسی طرح مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ کو بھی ہر معاملے کی بنیاد پر الگ الگ جانچا جائے گا اور اسے اجتماعی طور پر قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے انتخابی عمل میں ریاستی حکومت کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندگی قانون کی دفعہ 13 سی سی کے تحت انتخابی فہرستوں کی تیاری، نظرثانی اور اصلاح کے دوران اس کام سے وابستہ افسران مرکزی انتخابی کمیشن کے ماتحت تصور کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق اس مدت میں چیف الیکٹورل افسر سمیت متعلقہ افسران مرکزی انتخابی کمیشن کے کنٹرول، نگرانی اور تادیبی اختیار کے تابع رہتے ہیں۔
شیوسندر نے آئین کی دفعہ 324(1) اور عوامی نمائندگی قانون کی دفعہ 21 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے لیے انتخابی فہرستوں کی تیاری اور نگرانی کا اختیار مرکزی انتخابی کمیشن کو حاصل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 27 مئی 2026 کو سپریم کورٹ کی کارروائی کے بعد بھی ایس آئی آر کے طریقۂ کار، مدت اور دیگر امور کے تعین میں مرکزی انتخابی کمیشن کے اختیار کی توثیق ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ریاستی حکومت کے لیے ایس آئی آر کے عمل میں براہ راست مداخلت کی گنجائش محدود ہے اور مرکزی انتخابی کمیشن کی اجازت کے بغیر ریاستی حکومت کی ہدایات پر عمل کرنا بھی انتخابی افسران کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔
شیوسندر نے سیاسی جماعتوں کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس سمیت سیاسی جماعتوں کو ایس آئی آر سے متاثر ہونے والے ووٹروں کے تحفظ کے لیے زیادہ مؤثر عوامی جدوجہد کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق محض قانونی یا انتظامی سطح پر کوششیں کافی نہیں ہوں گی بلکہ عوامی تنظیموں کو متاثرہ ووٹروں کو منظم کرکے طویل مدتی جمہوری جدوجہد کے لیے تیار کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر کے خلاف عوامی سطح پر بڑے پیمانے کی مزاحمت ابھی تک سامنے نہیں آ سکی ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس عمل کو مختلف طریقوں سے پیش کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں ایس آئی آر کے خلاف وسیع عوامی تحریک آسان نہیں، تاہم متاثرہ شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے عوامی بیداری اور منظم جدوجہد ضروری ہے۔
شیوسندر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایس آئی آر کے عمل میں بنیادی تبدیلیاں کیے بغیر متاثرہ ووٹروں کو حقیقی راحت فراہم کرنا مشکل ہوگا اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے عوامی تنظیموں کو اپنے اپنے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے مسلسل جدوجہد کرنا ہوگی۔