سنگرور ، 5/ نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی پر امریکی صدر ٹرمپ کے کنٹرول میں ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم مودی غدارِ وطن ہیں اور وہ آمنے سامنے کی بحث میں پانچ منٹ کے اندر اس بات کو ثابت کر دیں گے۔ راہل گاندھی نے پنجاب کے شہر سنگرور میں ’’انصاف ریلی‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ایک دن پہلے وزیر اعظم مودی کو آمنے سامنے کی بحث کا چیلنج دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ چیلنج اب بھی برقرار ہے۔ اگر وہ چاہیں تو اپنی مدد کیلئے یا بحث میںفیصلہ کرنے کیلئے جسے چاہیں بٹھا سکتے ہیں۔ وہ موہن بھاگوت یا اڈانی کو بھی ثالث بناسکتے ہیں۔ میری طرف سے پوری اجازت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پارلیمنٹ میں بحث کی بات کرتے ہیں، لیکن وہاں اپوزیشن کا مائیک بند کر دیا جاتا ہے اور اسے بولنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم ان کے سامنے بیٹھ کر بحث کرنے کی ہمت نہیں کر سکتے۔
راہل نے الزام لگایا کہ ڈونالڈ ٹرمپ وزیر اعظم مودی کو کنٹرول کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے دھمکی دے کر ان سے پانچ منٹ کے اندر امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے پر دستخط کروا لئے۔ اس معاہدے کے لئے نہ تو کابینہ کی میٹنگ بلائی گئی اور نہ ہی افسران سے مشورہ کیا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس معاہدےسے ملک کے کسانوں کے مفادات کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے امریکہ کے سامنے کچھ نہیں کہا۔ ٹرمپ مسلسل دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ رُکوا دی لیکن وزیر اعظم مودی اس پربھی خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ وزیر اعظم مودی ٹرمپ کے اس دعوے کا جواب کیوں نہیں دیتے؟
کانگریس کے سابق صدرنے وزیر داخلہ امیت شاہ کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پنجاب سے تین سال میں منشیات کا خاتمہ کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن ان کا یہ دعویٰ پورا نہیں ہوگا۔ انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ موجودہ حکومت ایک سال بھی نہیں چلے گی اور تین سال بعد امیت شاہ وزیر داخلہ بھی نہیں رہیں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ امیت شاہ کو بتانا چاہئے کہ جب اتنی بڑی مقدار میں منشیات پکڑی جا رہی ہیں تو اس کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ پنجاب کو ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو ریاست کے عوام اور نوجوانوں کے مفادات کیلئے کام کرے۔ کانگریس کی حکومت بننے پر پنجاب کا نظامِ دہلی سے نہیںبلکہ پنجاب سے چلایا جائے گا۔