بنگلورو، 11/ اپریل (ایس او نیوز/ایجنسی) وزیر صحت دنیش گنڈوراؤ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر انتخابی حلقوں کی حد بندی کے عمل میں جنوبی ریاستوں کے ساتھ ناانصافی کی گئی تو اس کے سنگین سیاسی نتائج برآمد ہوں گے اور ان ریاستوں کے سیاسی وجود کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں گیس کی قلت ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے جس سے عام عوام شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق مرکزی حکومت کی جانب سے بروقت اقدامات نہ کیے جانے کے باعث صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔ ٹرانسپورٹ، صنعتیں اور خاص طور پر فارما کمپنیاں مشکلات کا شکار ہیں۔
کئی دوا ساز کمپنیوں نے خام مال کی فراہمی میں رکاوٹوں کے تعلق سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت کو مکتوب روانہ کیا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ادویات کی فراہمی میں تاخیر اور قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا براہِ راست بوجھ عوام پر پڑے گا۔
دنیش گنڈوراؤ نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت متبادل نظام قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے اور جنگ کے آغاز کے فوراً بعد اس سمت میں سنجیدہ اقدامات کرنے چاہیے تھے، مگر اب غیر عملی مشورے دیے جا رہے ہیں جس سے ہوٹل مالکان، کسانوں اور چھوٹے تاجروں کو شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت جنوبی ریاستوں کے ساتھ امتیازی سلوک بند کرے۔ بارش سے ہونے والے نقصانات کے معاوضے اور ٹیکس کی تقسیم میں بھی ناانصافی ہو رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی ریاستوں نے آبادی پر قابو پانے اور معاشی ترقی میں نمایاں پیش رفت کی ہے، لیکن اگر ٹیکس کی تقسیم صرف آبادی کی بنیاد پر کی گئی تو ان ریاستوں کے ساتھ زیادتی ہوگی اور ترقی کی رفتار متاثر ہوگی۔
وزیر موصوف نے کہا کہ بجٹ میں اعلانات تو کیے جاتے ہیں لیکن فنڈز جاری نہیں کیے جاتے، جس کے باعث ریاستی حکومتوں کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو یہ صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی بحران میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔
اس موقع پر انہوں نے ملکارجن کھڑگے کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ انہوں نے بی جے پی کی اشتعال انگیز سیاست پر تنقید کی تھی، نہ کہ کسی بدنیتی کے تحت بیان دیا تھا۔
دنیش گنڈوراؤ نے آسام کے وزیر اعلیٰ کے بیانات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات ملک کے سیاسی ماحول کو خراب کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی غیر جانبداری پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں اور عوام کا اعتماد کمزور ہو رہا ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورِ حکومت میں کئی خودمختار اداروں کی ساکھ متاثر ہوئی ہے، جس پر ملک کے عوام بخوبی واقف ہیں۔