ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / وینزویلا میں جون کے تباہ کن زلزلوں سے 6,438 افراد جاں بحق

وینزویلا میں جون کے تباہ کن زلزلوں سے 6,438 افراد جاں بحق

Tue, 18 Aug 2026 17:10:53    S O News

وینزویلا ،18/اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)وینزویلا کی حکومت نے 24 جون کو آئے دوہرے زلزلے سے ہوئی اموات کے سرکاری اعداد و شمار کو اپڈیٹ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مہلوکین کی تعداد بڑھ کر 6438 ہو گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مقابلے میں مہلوکین کی تعداد میں 137 کا اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے پیر کے روز جاری بلیٹن کے مطابق زلزلہ متاثرہ کنبوں کو اب تک 335 گھر سونپے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں 59109 عمارتوں کا معائنہ کیا گیا ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ مکانات رہنے کے لیے محفوظ ہیں یا نہیں۔ جن عمارتوں کا جائزہ لیا گیا ہے، ان میں سے 34680 مکانات کو رہنے کے لائق قرار دیا گیا ہے، جب کہ 13733 عمارتوں کو پابندی والے زمرے میں رکھا گیا ہے، وہیں 10696 عمارتوں کو زیادہ خطرے والی عمارتوں کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔

اس سے قبل جاری اپڈیٹ میں بتایا گیا تھا کہ زلزلے سے متاثرہ کنبوں کو 287 سے زیادہ گھر فراہم کرائے جا چکے ہیں اور ملک میں 43679 عمارتوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ وینزویلا حکومت نے عمارتوں کی حالت کا جائزہ لینے کے لیے ٹریفک لائٹ پر مبنی ٹیگنگ سسٹم نافذ کیا ہے۔ اس کے تحت سبز رنگ کا ٹیگ ان عمارتوں کو دیا جاتا ہے، جنہیں رہنے کے لیے محفوظ سمجھا گیا ہے۔ پیلے رنگ کا ٹیگ پابندی والی عمارتوں کے لیے ہے، جبکہ سرخ رنگ کا ٹیگ ان عمارتوں پر لگایا جاتا ہے، جنہیں زیادہ خطرناک سمجھا گیا ہے اور ان عمارتوں کو منہدم بھی کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ 24 جون کو وینزویلا میں 7.2 اور 7.5 شدت کے 2 زلزلے آئے تھے۔ ساحلی ریاست لا گوایرا میں ان دونوں زلزلوں سے سب سے زیادہ نقصان ہوا تھا۔

اس دوران وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے حالیہ زلزلوں کے متاثرین کی مدد کے لیے 28 ممالک کی جانب سے فراہم کی گئی انسانی امداد کے لیے اظہار تشکر ادا کیا ہے۔ انہوں نے کاراکاس میں ایک ذخیرہ مرکز کا معائنہ کرنے کے بعد یہ بات کہی۔ اس مرکز میں بین الاقوامی سطح پر بھیجی گئی 2000 ٹن سے زیادہ انسانی امداد کو الگ کر کے ان عارضی کیمپوں تک پہنچانے کی تیاری کی جا رہی ہے، جہاں جون میں آئے زلزلے کے متاثرین کو رکھا گیا ہے۔


Share: