چنئی ، 9/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی) تمل ناڈو کی سیاست میں تہلکہ مچا دینے والے اداکار تھلا پتی وجے جن کا اصل نام جوزف وجے چند شیکھر ہے، نے اقتدار تک پہنچنے کا راستہ ہموار کرلیا ہے۔ اُنہیں کانگریس کی حمایت پہلے ہی حاصل ہوچکی تھی، اب بائیں محاذ اور وی سی کے نے بھی اُنہیں حمایت دینے کی ہامی بھرلی ہے۔ جمعہ کو شام ساڑھے چار بجے اُنہوں نے ریاستی گورنر وشوناتھ آرلیکر سے ملاقات کی اور ۱۱۸؍ اراکین اسمبلی کے ناموں کی فہرست پیش کی جس میں مذکورہ پارٹیوں کے نومنتخب اراکین کے بھی نام ہیں۔ گورنر سے حکومت سازی کی دعوت ملنے پر سنیچر کو ان کی حلف برداری ہوسکتی ہے۔
تمل ناڈو کی ۲۳۴؍ رُکنی اسمبلی میں حکومت سازی کیلئے ۱۱۸؍ اراکین کی حمایت درکار تھی۔ ایک روز پہلے تک تھلا پتی وجے کو اپنی پارٹی کے ۱۰۸؍ اور کانگریس کے ۵؍ اراکین کی حمایت حاصل تھی۔ حکومت سازی کیلئے درکار اراکین میں صرف ۵؍ کم تھے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر (تھلاپتی وجے) کو حکومت سازی کی دعوت دی جاتی مگر وجے کے دو مرتبہ ملاقات کے باوجود گورنر آرلیکر نے اُنہیں موقع نہیں دیا اور یہی کہا کہ اراکین کی مطلوبہ تعداد (۱۱۸) کی فہرست پیش کریں۔ گورنر کے اس طرز عمل کو ہدف تنقید بنایا گیا۔ کئی پارٹیوں نے ماضی کی مثالیں دے کر گورنر کے موقف کو جمہوری روایت سے انحراف قرار دیا تھا مگر اب یہ ماضی کی باتیں ہوگئی ہیں۔
تازہ خبر یہی ہے کہ وجے حکومت بنانے جارہے ہیں جو کم و بیش ۶۰؍ سال بعد بننے والی غیر دراوڑی پارٹی کی حکومت ہوگی۔ ان ۶۰؍ برسوں میں ریاست میں کبھی ڈی ایم کے اور کبھی انا ڈی ایم کے کی حکومت رہی۔ ۱۹۶۷ء کے اسمبلی الیکشن میں سی این انا دورائی کی سربراہی میں ڈی ایم کے نے پہلی مرتبہ کانگریس کے اقتدار کو بے دخل کرکے حکومت بنائی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک تمل ناڈو میں دراوڑی پارٹیوں ہی کی بالادستی رہی مگر تھلاپتی وجے کی پارٹی ’’ٹی وی کے‘‘ (تملگا ویٹری کزگم) نے کمال کردیا اور پہلی مرتبہ الیکشن لڑ کر ۱۰۸؍ سیٹوں پر قبضہ کرلیا۔
سابقہ دنوں کی طرح جمعہ کا دن بھی کافی سیاسی ہلچل کا تھا۔ تاہم سہ پہر تک سی پی آئی اور سی پی ایم، جن کے پاس ۲۔۲؍ سیٹیں ہیں، نے وجے کی پارٹی کی حمایت کا اعلان کردیا۔ مسلم لیگ (۲؍ سیٹ) نے بھی وجے کی قیادت میں بننے والی حکومت کی تائید کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح ’ٹی وی کے‘ کو ۱۱۹؍ اراکین کی حمایت حاصل ہوگئی ہے جو ۱۱۸؍ درکار اراکین سے زیادہ ہے۔ تھلاپتی وجے نے جمعہ کو سی پی آئی اور سی پی ایم کے دفتر میں پہنچ کر ان کا شکریہ ادا کیا۔