ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اداریہ / مغربی بنگال 2026: ممتا بنرجی کی شکست کے بعد انتخابی شفافیت اور طاقت کے توازن پر سوالات

مغربی بنگال 2026: ممتا بنرجی کی شکست کے بعد انتخابی شفافیت اور طاقت کے توازن پر سوالات

Tue, 05 May 2026 13:15:57    S O News
مغربی بنگال 2026: ممتا بنرجی کی شکست کے بعد انتخابی شفافیت اور طاقت کے توازن پر سوالات

کولکاتا 5/ مئی (ایس او نیوز) : مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج نے نہ صرف ریاست بلکہ قومی سیاست میں بھی غیر معمولی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی فیصلہ کن جیت اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی غیر متوقع شکست نے ایک وسیع اور پیچیدہ سیاسی بیانیہ کو جنم دیا ہے، جس میں انتخابی شفافیت، ادارہ جاتی غیر جانبداری، ووٹر لسٹ میں تبدیلیاں، اور سیاسی حکمت عملی جیسے متعدد پہلو زیر بحث ہیں۔

پندرہ برس تک اقتدار میں رہنے والی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے انتخابی عمل کے آغاز سے ہی شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا، تاہم نتائج کے بعد ان کا ردعمل خاصا سخت اور غیر معمولی رہا۔ بھبانی پور کے کاؤنٹنگ سینٹر پہنچ کر انہوں نے “لوٹ! لوٹ! لوٹ!” کے نعرے لگائے اور بڑے پیمانے پر دھاندلی، ووٹوں کی چوری اور گنتی میں گڑبڑی کے الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ “یہ جیت اخلاقی نہیں بلکہ غیر اخلاقی ہے” اور الزام لگایا کہ 100 سے زائد نشستیں “چھینی” گئی ہیں۔ ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن کو “بی جے پی کمیشن” قرار دیتے ہوئے اس کی غیر جانبداری پر بھی سوال اٹھایا اور نئے مینڈیٹ کا مطالبہ کیا۔

ترنمول کانگریس کے دیگر رہنماؤں نے بھی دعویٰ کیا کہ ووٹوں کی گنتی کے دوران بدنظمی ہوئی، پارٹی ایجنٹس کو ہراساں کیا گیا اور کئی مقامات پر انہیں کاؤنٹنگ مراکز سے باہر نکال دیا گیا۔ ان الزامات کے ساتھ یہ مؤقف بھی زور پکڑتا گیا کہ یہ شکست ایک “قدرتی سیاسی عمل” کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا، خصوصاً گارڈین، نے اپنی رپورٹ میں “اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR)” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انتخاب سے قبل ووٹر لسٹوں میں بڑی سطح پر تبدیلیاں کی گئیں، جن کے نتیجے میں لاکھوں ووٹروں کے نام خارج ہوئے۔ ناقدین کے مطابق ان میں بڑی تعداد اقلیتی برادریوں کی تھی، جس نے انتخابی توازن کو متاثر کیا ۔

دوسری جانب، قومی اور مقامی میڈیا کے ایک حصے نے اس نتیجے کو زمینی سیاسی عوامل کے تناظر میں بھی دیکھا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا اور اکنامک ٹائمز کے مطابق یہ ایک “ہائی وولٹیج پاور اسٹرگل” تھا، جس میں ممتا بنرجی کو ان کے سابق قریبی ساتھی اور اب بی جے پی کے سرکردہ لیڈر سویندو ادھیکاری نے براہ راست چیلنج کیا اور بالآخر شکست دی۔ ادھیکاری کا ترنمول سے بی جے پی میں شامل ہونا نہ صرف تنظیمی نقصان تھا بلکہ اس نے ممتا کی قیادت کو اندر سے کمزور کیا۔

کئی تجزیاتی رپورٹس میں ترنمول کی شکست کی وجوہات میں اینٹی انکمبنسی، بدعنوانی کے الزامات، اندرونی اختلافات، خواتین کی سلامتی کے مسائل اور روزگار کی کمی کو بھی اہم عوامل قرار دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ “تین ایم”—Money, Media اور Muscle Power—کی اصطلاح بھی زیر بحث رہی، جسے بعض مبصرین نے بی جے پی کی کامیابی میں ایک “فورس ملٹی پلائر” کے طور پر بیان کیا۔

خبر رساں ایجنسی اسوسی ایٹڈ پریس اور دیگر عالمی اداروں نے اس نتیجے کو ہندوستانی سیاست میں “طاقت کے توازن کی بڑی تبدیلی” سے تعبیر کیا ہے۔ ممتا بنرجی، جو طویل عرصے سے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی ایک مضبوط آواز سمجھی جاتی تھیں، اس شکست کے بعد قومی سطح پر کمزور پڑتی نظر آ رہی ہیں۔

کولکتہ کے معروف انگریزی  اخبار ٹیلی گراف نے اپنی رپورٹس میں ترنمول کی شکست کو صرف بیرونی عوامل تک محدود نہیں رکھا بلکہ تنظیمی کمزوریوں اور قیادت کو درپیش چیلنجز کو بھی نمایاں کیا۔ تاہم ان تجزیوں میں بھی یہ سوال برقرار رہا کہ کیا یہ عوامل اکیلے اس بڑے سیاسی الٹ پھیر کی وضاحت کے لیے کافی ہیں، یا اس کے پیچھے کوئی بڑی سیاسی انجینئرنگ کارفرما تھی۔

میڈیا کے بعض مبصرین نے اس انتخاب کو “سیاسی ری سیٹ” قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ترنمول کے روایتی ووٹ بینک میں دراڑ پڑی، خاص طور پر خواتین اور اقلیتی ووٹرز کے رویے میں تبدیلی دیکھی گئی، جبکہ دیگر جماعتوں، بشمول کانگریس، نے بعض علاقوں میں اپنی موجودگی بڑھائی، جس سے ووٹ تقسیم ہوا اور بی جے پی کو فائدہ پہنچا۔

آزاد صحافیوں، جن میں رویش کمار بھی شامل ہیں، نے اس پورے عمل پر بنیادی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صرف ایک انتخابی مقابلہ نہیں بلکہ “اداروں کی غیر جانبداری بمقابلہ سیاسی طاقت” کی جنگ بن چکا ہے۔ انہوں نے ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی، الیکشن کمیشن پر اٹھنے والے سوالات اور ریاستی و مرکزی طاقت کے عدم توازن کو جمہوریت کے لیے خطرناک اشارہ قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر لاکھوں ووٹروں کے نام فہرستوں سے خارج کیے جائیں تو یہ محض سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ جمہوری بحران کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں نے بھی اس نتیجے پر سخت ردعمل دیا ہے۔ کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے انتخابی عمل میں شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے جمہوری اداروں کی غیر جانبداری کو یقینی بنانے پر زور دیا، جبکہ عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال نے انتخابی اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

بی جے پی کی جارحانہ انتخابی مہم کو بھی اس جیت کا ایک اہم عنصر قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی مسلسل ریلیاں، مضبوط تنظیمی ڈھانچہ اور وسیع وسائل نے پارٹی کو انتخابی میدان میں برتری دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ پارٹی نے خود کو ایک متبادل حکمرانی کے طور پر پیش کیا، جبکہ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق ممتا بنرجی کی جارحانہ مرکز مخالف سیاست ووٹروں کے ایک حصے کے لیے مؤثر ثابت نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب، ترنمول اور اس کے حمایتی حلقوں نے ان عوامل کے ساتھ ساتھ مرکزی ایجنسیوں جیسے ای ڈی کے مبینہ استعمال، میڈیا نیریٹو کی یکطرفہ تشکیل اور الیکشن کمیشن پر جانبداری کے الزامات کو بھی شکست کی اہم وجوہات میں شامل کیا ہے۔ اگرچہ ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تردید کی گئی ہے، لیکن اپوزیشن بیانیے میں یہ نکات مسلسل مضبوطی سے موجود ہیں۔

مجموعی طور پر مغربی بنگال کے 2026 انتخابات ایک سادہ سیاسی مقابلہ نہیں بلکہ دو متضاد بیانیوں کے درمیان ایک بڑی کشمکش کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ایک طرف بی جے پی اور اس کے حامی اسے عوامی مینڈیٹ اور تبدیلی کی لہر قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف ممتا بنرجی اور ان کے حامی اسے ایک “انجینئرڈ شکست” تصور کرتے ہیں، جس میں انتخابی عمل کے مختلف پہلوؤں پر سوالات بدستور برقرار ہیں۔


Share: