لکھنؤ، 22/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے رام مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے دی گئی عطیات کی رقم کے مالیاتی انتظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ سے متعلق عرضی پر فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ معاملے میں ایسی کوئی غیر معمولی صورت حال موجود نہیں ہے جس کی بنیاد پر اسے معمول کے طریقۂ کار سے ہٹ کر ترجیحی بنیادوں پر سنا جائے۔
جسٹس پنکج بھاٹیہ اور جسٹس امیتابھ کمار رائے پر مشتمل تعطیلاتی بنچ نے یہ ریمارکس اس وقت دیے جب عرضی گزار موہت اشوک کی جانب سے معاملے کی سنگینی کا حوالہ دیتے ہوئے جلد سماعت کی درخواست کی گئی۔ تاہم عدالت نے کہا کہ اس کے سامنے پہلے ہی بڑی تعداد میں مقدمات زیر التوا ہیں اور اس عرضی کو خصوصی ترجیح دینے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔
عدالت نے زبانی طور پر یہ بھی کہا کہ ریاستی حکومت اس معاملے کا نوٹس لے چکی ہے، اس لیے فوری عدالتی مداخلت کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ عدالت کے سامنے پیر کے روز فہرست بند 529 نئے مقدمات میں یہ عرضی 392 ویں نمبر پر درج تھی۔
موہت اشوک نے اپنی عرضی میں رام مندر میں موصول ہونے والی عطیات کی رقم کے مبینہ غلط استعمال کی آزادانہ جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہندوستان کے کمپٹرولر و آڈیٹر جنرل سے اس معاملے کا آڈٹ کرانے کے لیے ہدایات جاری کرنے کی بھی استدعا کی ہے۔
عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ عقیدت مندوں کی جانب سے پیش کی گئی نذرانے اور عطیات کی رقم کے مالیاتی انتظام میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ عرضی گزار نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ مندر میں موصول ہونے والی رقم کے استعمال اور انتظام میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے عدالتی نگرانی میں مناسب اقدامات کیے جائیں۔
ہائی کورٹ نے فی الحال اس معاملے میں فوری سماعت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عرضی کو مقررہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق ہی سنا جائے گا اور اسے غیر معمولی ترجیح نہیں دی جائے گی۔