بنگلورو، 4 /اپریل (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک کی دو اہم اسمبلی نشستوں داونگیرے ساؤتھ اور باگلکوٹ کے ضمنی انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی پیر کی صبح سخت سیکیورٹی انتظامات کے درمیان شروع ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق گنتی کا عمل مکمل طور پر شفاف اور پرامن انداز میں جاری ہے، جبکہ نتائج پر سیاسی حلقوں کی گہری نظر ہے۔
داونگیرے ساؤتھ نشست طویل عرصے سے انڈین نیشنل کانگریس کا مضبوط گڑھ رہی ہے، تاہم اس بار مقابلہ کافی سخت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ نشست سینئر کانگریس رہنما شامانور شیواشنکرپا کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔ کانگریس نے ان کے پوتے سمارتھ شامانور کو امیدوار بنایا ہے، جبکہ بی جے پی نے سرینواس ٹی داساکاریاپا کو میدان میں اتارا ہے۔ اس حلقے میں مسلم ووٹ بینک بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، تاہم متعدد امیدواروں کی موجودگی کے باعث ووٹوں کی تقسیم کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
باگلکوٹ کی نشست کانگریس رکن اسمبلی ایچ وائی میٹی کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔ یہاں کانگریس نے ان کے بیٹے اومیش میٹی کو امیدوار بنایا ہے، جو ہمدردی کے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ بی جے پی نے ویربھدریا چرنٹی مٹھ کو دوبارہ میدان میں اتارا ہے۔
انتخابی عمل کے دوران باگلکوٹ میں یونیورسٹی آف ہارٹی کلچرل سائنسز اور داونگیرے میں ڈی آر آر اسکول کو گنتی مراکز بنایا گیا ہے۔ سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
انتخابی حکام کے مطابق سروس ووٹرز کے پوسٹل بیلٹس کے لیے علیحدہ انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ باگلکوٹ میں کیو آر کوڈ اسکیننگ سسٹم بھی نافذ کیا گیا ہے۔ گنتی مراکز پر داخلے کے لیے سخت پروٹوکول نافذ ہے اور صرف متعلقہ عملے اور میڈیا کو داخلے کی اجازت دی گئی ہے۔