بنگلورو، 6/ اپریل (ایس او نیوز/ایجنسی) پٹرولیم و قدرتی گیس کی وزارت کے تحت جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ عالمی جغرافیائی حالات کے پیش نظر ایندھن کی طلب میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے مدنظر انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ نے کرناٹک میں آٹو ایل پی جی کی سپلائی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا اور عوام کو کسی بھی قسم کی دشواری سے بچانا ہے۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ ریاست کرناٹک میں آئل مارکیٹنگ کمپنیاں مجموعی طور پر 72 آٹو ایل پی جی ڈسٹری بیوشن مراکز چلا رہی ہیں، جن میں سے 55 مراکز انڈین آئل کارپوریشن کے زیرِ انتظام ہیں۔ اس کے برعکس نجی کمپنیوں کے 300 سے زائد مراکز موجود ہونے کے باوجود موجودہ حالات کے باعث تقریباً 80 فیصد مراکز غیر فعال ہو چکے ہیں، جس سے سپلائی کے نظام پر اضافی دباؤ پڑ رہا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر حکومت ہند کی معاونت سے انڈین آئل کارپوریشن نے اپنی یومیہ سپلائی میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔ فروری 2026 میں جہاں یومیہ اوسط سپلائی 43.5 میٹرک ٹن تھی، وہیں مارچ میں بڑھ کر 59.53 میٹرک ٹن ہو گئی، اور 4 اپریل 2026 سے اسے مزید بڑھا کر 68.53 میٹرک ٹن یومیہ کر دیا گیا ہے۔
تاہم محدود ڈسٹری بیوشن مراکز، ترسیلی صلاحیت میں کمی اور آپریشنل مسائل کے باعث نجی مراکز کی بندش سے پیدا ہونے والے خلا کو مکمل طور پر پُر کرنا اب بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان مسائل کے باوجود سپلائی کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔
قیمتوں میں فرق بھی صارفین کے رجحان کو متاثر کر رہا ہے۔ سرکاری مراکز بشمول انڈین آئل کارپوریشن بنگلورو میں آٹو ایل پی جی 89.52 روپے فی لیٹر کے حساب سے فراہم کر رہے ہیں، جبکہ نجی فروخت کنندگان اسی ایندھن کو 99 سے 105 روپے فی لیٹر کے درمیان فروخت کر رہے ہیں۔ اس واضح فرق کے باعث صارفین کی بڑی تعداد سرکاری مراکز کا رخ کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں وہاں طویل قطاریں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
مزید یہ کہ تقریباً 70 فیصد آٹو رکشہ دوہری ایندھن یعنی ایل پی جی اور پٹرول پر چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے صارفین کو عارضی طور پر متبادل ایندھن کے طور پر پٹرول استعمال کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے تاکہ ٹرانسپورٹ نظام متاثر نہ ہو۔
حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ریاست بھر میں آٹو ایل پی جی کی دستیابی برقرار ہے، تاہم اگر کسی مقام پر انتظار طویل ہو تو صارفین اپنی گاڑیوں کی دوہری ایندھن صلاحیت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انڈین آئل کارپوریشن نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی طلب کے اس دور میں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔