ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / لوک سبھا حلقہ بندی پر تنازع: سدارامیا نے مودی کے بیان کو انتخابی حکمت عملی قرار دے دیا، جنوبی ریاستوں کے حقوق پر خدشات

لوک سبھا حلقہ بندی پر تنازع: سدارامیا نے مودی کے بیان کو انتخابی حکمت عملی قرار دے دیا، جنوبی ریاستوں کے حقوق پر خدشات

Mon, 06 Apr 2026 12:14:01    S O News

بنگلورو، 6 /اپریل (ایس او نیوز/ایجنسی) وزیر اعلیٰ سدارامیا نے مجوزہ لوک سبھا حلقہ بندی کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ بیان پر سخت ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے خالصتاً انتخابی سیاست سے متاثر قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستوں کو یقین دہانی کرانے کی جو کوشش کی جا رہی ہے، وہ دراصل آئندہ انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی حکمت عملی معلوم ہوتی ہے، خاص طور پر کیرالا اور تمل ناڈو جیسے حساس سیاسی ریاستوں میں۔

سدارامیا نے واضح کیا کہ اصل مسئلہ لوک سبھا نشستوں میں اضافہ نہیں بلکہ اس اضافے کا طریقہ کار اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والا فائدہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مجوزہ حد بندی کے ذریعے بھارتیہ جنتا پارٹی کی مضبوط گرفت رکھنے والی ریاستوں کو غیر متناسب فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو جمہوری توازن کے خلاف ہے۔

انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش، مہاراشٹر، بہار، مدھیہ پردیش، راجستھان اور گجرات جیسی بڑی ریاستوں میں نشستوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جبکہ جنوبی ریاستوں کے حصے میں نسبتاً کم اضافہ آئے گا۔ ان کے مطابق اگرچہ لوک سبھا کی مجموعی نشستیں بڑھ کر 816 ہو سکتی ہیں، لیکن اس کے باوجود جنوبی ریاستوں کا حصہ تقریباً 24 فیصد تک محدود رہے گا، جو پہلے ہی ناکافی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ جن ریاستوں نے آبادی پر قابو پانے اور بہتر طرز حکمرانی کو فروغ دینے میں کامیابی حاصل کی ہے، انہیں اس عمل کے ذریعے سزا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف نشستوں کی تقسیم کا معاملہ نہیں بلکہ طاقت کے ارتکاز کی ایک منظم کوشش ہے، جس کے نتیجے میں بڑی ریاستوں کا اثر و رسوخ مزید بڑھ جائے گا۔

سدارامیا نے اس اقدام کو وفاقی ڈھانچے کے بنیادی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کرناٹک سمیت دیگر جنوبی ریاستوں کی آواز کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس طرح کی اہم آئینی تبدیلیاں وسیع عوامی مباحثے اور تمام ریاستوں سے مشاورت کے بغیر نافذ نہیں کی جانی چاہئیں۔

آخر میں انہوں نے مرکزی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ موجودہ عالمی اور معاشی چیلنجز پر توجہ مرکوز کرے، بجائے اس کے کہ سیاسی مفادات کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک کے عوام کو انصاف، احترام اور شفافیت کا حق حاصل ہے، اور ریاست کسی بھی ایسے اقدام کی سخت مخالفت کرے گی جو اس کی نمائندگی کو کمزور کرے۔


Share: