بنگلورو ، یکم نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی) بنگلورو میں مبینہ اسٹنگ آپریشن کی ویڈیو کے معاملے میں پولیس تحقیقات کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ بنگلورو کے پولیس کمشنر سیمنت کمار سنگھ نے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مبینہ اسٹنگ ویڈیو ایک جھوٹی اور من گھڑت کہانی ہے۔ پولیس کے پاس اس دعوے کی تائید میں شواہد موجود ہیں اور معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تفصیلی تحقیقات جاری ہیں۔
میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس کمشنر نے بتایا کہ اس معاملے کا تعلق ایک دہائی سے زائد عرصہ پر محیط واقعات سے ہے، جس کے باعث تحقیقات میں تکنیکی شواہد اور مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق مبینہ واقعہ 2011 کا بتایا جا رہا ہے، جبکہ اس کی ریکارڈنگ 2023 میں کی گئی اور ویڈیو ستمبر یا اکتوبر 2026 کے دوران سوشل میڈیا پر اپ لوڈ یا لیک کی گئی۔
پولیس کمشنر نے بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات دو الگ الگ پہلوؤں سے کی جا رہی ہیں۔ ایک ٹیم مبینہ ویڈیو کی ریکارڈنگ اور اس کی تیاری کے پس منظر کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ دوسری ٹیم ویڈیو کو سوشل میڈیا، خصوصاً یوٹیوب پر اپ لوڈ اور پھیلانے میں ملوث افراد کا سراغ لگانے میں مصروف ہے۔ اس سلسلے میں متعدد افراد کو طلب کرکے پوچھ تاچھ بھی کی گئی ہے۔
تحقیقات کے دوران پولیس کو ایک اہم سراغ اس وقت ملا جب ویڈیو کی تشہیر سے مبینہ طور پر وابستہ ایک شخص کو نئی دہلی سے گرفتار کیا گیا۔ کمشنر کے مطابق تکنیکی شواہد کی مدد سے اس شخص کی شناخت کی گئی۔ بتایا گیا کہ وہ ایک ایسے موبائل فون کا استعمال کر رہا تھا جو نئی دہلی میں سیکنڈ ہینڈ موبائل فون فروخت کرنے والی دکان سے خریدا گیا تھا۔ اسی تکنیکی معلومات کی بنیاد پر پولیس نے ملزم کا سراغ لگاکر اسے گرفتار کیا۔
پولیس کمشنر نے مزید بتایا کہ عدالت نے گرفتار شخص کو مشروط ضمانت منظور کی ہے، تاہم اسے دوبارہ پوچھ تاچھ کے لیے طلب کیا گیا اور وہ تحقیقات میں تعاون کر رہا ہے۔
پولیس اب اس بات کا پتہ لگانے میں مصروف ہے کہ مبینہ ویڈیو کس طرح ملزم تک پہنچی، اسے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے پیچھے کون کون افراد سرگرم تھے اور اس پورے معاملے میں کسی منظم نیٹ ورک کا کردار تو نہیں ہے۔ پولیس کمشنر نے واضح کیا کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور تمام متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ہی معاملے کی مکمل حقیقت سامنے آسکے گی۔