بھٹکل 8/اگست (مُبشر ہلارے/ایس او نیوز) : مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین بھٹکل کا سالانہ جلسہ جمعہ کی شب خلیفہ جامع مسجد میں منعقد ہوا، جس میں جماعت کی سالانہ کارگزاری اور مالیاتی گوشوارہ پیش کیے گئے، جبکہ علمائے کرام نے معاشرتی اور خاندانی مسائل کے حل اور نوجوانوں کی اصلاح پر زور دیا۔
جماعت کے چیف قاضی مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی نے اپنے خطاب میں نکاح کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نکاح محض ایک سماجی رسم نہیں بلکہ مقدس عبادت ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ شادی سے قبل اپنے بچوں کی اسلامی، اخلاقی اور خاندانی تربیت پر توجہ دیں، تاکہ وہ پُرسکون اور کامیاب ازدواجی زندگی گزار سکیں۔
انہوں نے کہا کہ بیٹیوں کو صبر، حکمت، شوہر اور سسرال والوں کے احترام اور خاندانی رشتوں کی حفاظت کی تعلیم دی جانی چاہیے، جبکہ بیٹوں کو اپنی بیویوں کے حقوق ادا کرنے، ان کے ساتھ حسنِ سلوک، شفقت اور انصاف سے پیش آنے کی تربیت دی جائے۔ مولانا نے خاندانی اختلافات کو صبر، تحمل اور باہمی صلح و مفاہمت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا اور معمولی اختلافات کی بنیاد پر علیحدگی کی حوصلہ افزائی سے گریز کی تلقین کی۔

نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نے منشیات، غیر اخلاقی سرگرمیوں، غیر قانونی اعمال اور حرام کمائی سے دور رہنے کی تاکید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سرگرمیاں نہ صرف فرد کے مستقبل کو تباہ کرتی ہیں بلکہ ندامت، قانونی مشکلات اور خاندانوں کی تباہی کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے ملک کے قوانین کا احترام اور ان کی پابندی کرنے کی اپیل بھی کی۔
جلسے کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک مع ترجمہ سے ہوا۔ جماعت کے نائب صدر دوم محتشم محمد ہاشم نے استقبالیہ کلمات پیش کیے، مولوی تفہیم صدیقہ ندوی اور مولوی حسن ڈی ایف ندوی نے پروگرام کی نظامت کی، جبکہ جنرل سکریٹری اسماعیل جوباپو نے سالانہ کارگزاری رپورٹ اور سکریٹری مالیات مولوی اسماعیل انجم گنگاولی ندوی نے مالیاتی گوشوارہ پیش کیا۔ اس موقع پر اراکین کو سوالات کا موقع دیا گیا، جن کے ذمہ داران نے جوابات دیے۔
چیف قاضی کے خطاب سے قبل نائب قاضی مولوی ایمن علی قمری ندوی نے بھی خطاب کیا۔ نائب صدر ڈاکٹر زبیر کولا کے تاثرات کے بعد صدر ایس ایم سید محی الدین مارکیٹ نے صدارتی خطاب کیا۔ کلماتِ تشکر کے بعد چیف قاضی کی دعا کے ساتھ جلسہ اختتام پذیر ہوا۔ جلسے میں جماعت کے اراکین اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔