بھٹکل،26 / اپریل (ایس او نیوز) شہر کے قلب میں چل رہا نیشنل ہائی وے کا توسیعی کام کسی نہ کسی مسئلے کی وجہ سے تیز رفتاری سے تکمیل کی طرف نہیں بڑھ رہا ہے ۔
شمس الدین سرکل اور سرکاری بس اسٹینڈ کے قریب والے علاقے میں ایک طرف ہائی وے کا کام چل رہا ہے اور ٹریفک کے لئے راستہ تنگ ہو گیا ہے تو دوسری طرف تنگ سی جگہ ہونے کے باوجود سڑک کے کنارے موٹر گاڑیوں کی پارکنگ کی وجہ سے عوام کو سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس راستے سے گزرنے والی دوسری گاڑیوں کے لئے بحفاظت گزرنا یا بس اسٹینڈ کے سامنے سے اپنی گاڑیوں کو گھمانا خطرے سے خالی سے نہیں ہوتا ۔ اس سے چھوٹے موٹے حادثات پیش آنے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں ۔

ادھر رنگین کٹہ کے پاس توسیعی کام کے دوران پانی کا پائپ پھٹ گیا ہے اور بہت ہی زیادہ مقدار میں پانی ضائع ہو رہا ہے ۔ مگر تعجب کی بات یہ ہے کہ شدید گرمی کے موسم میں پینے کے پانی کی سپلائی متاثر ہونے کے باوجود دو تین دن گزرنے کے بعد بھی اس پھٹے ہوئے پائپ کو درست کرنے اور پانی کو ضائع ہونے سے روکنے کی طرف نہ ٹھیکیدار کمپنی توجہ دے رہی ہے اور نہ ہی سٹی میونسپل کاونسل کے افسران اس طرف دھیان دے رہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ سب کے سب آنکھیں موند کر بیٹھے ہیں اور اسے ان دیکھا کر رہے ہیں ۔
جب سی ایم سی کے انجینئر سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے شکایت کی کہ ہم نے ہائی وے کا کام شروع کرنے سے قبل ہی پانی کے پائپ اور ڈرینیج کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے لئے این ایچ آئی سے کہا تھا ۔ این ایچ آئی والے پائپ منتقل کرنا تو الگ رہا، پھٹے ہوئے پائپ درست کرنے کے لئے بھی سامان فراہم نہیں کر رہے ہیں ۔ ٹھیکیدار کمپنی، این ایچ آئی اور سی ایم سی کے بیچ تکرار اپنی جگہ ہے، مگر اس میں قیمتی پانی روزانہ ضائع ہو رہا ہے جس کی فکر کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے۔