نئی دہلی، 26/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی)ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ 27 اپریل کو طے ہونے جا رہا ہے، جسے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ نئی دہلی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور نیوزی لینڈ کے وزیر تجارت ٹوڈ میکلے کی موجودگی میں طے کیا جائے گا۔
یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور مختلف شعبوں میں بازار تک رسائی کو فروغ دینے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔ اندازہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس معاہدے کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں دوطرفہ تجارت کو بڑھا کر پانچ ارب ڈالر تک پہنچایا جا سکے گا، جس سے خاص طور پر ہندوستانی برآمد کنندگان کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
عالمی سطح پر بڑھتی غیر یقینی صورتحال اور مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان اس معاہدے کو تجارت کے استحکام کے لیے اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے اس معاہدے کو ایک تاریخی موقع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ان کے ملک کے برآمد کنندگان کو ایک ارب چالیس کروڑ آبادی والی منڈی تک رسائی حاصل ہوگی۔
معاہدے کے تحت نیوزی لینڈ سے ہندوستان میں آئندہ پندرہ برسوں کے دوران تقریباً بیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے، جس سے مینوفیکچرنگ، بنیادی ڈھانچہ، خدمات، اختراع اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔ ہندوستانی کمپنیوں کو نیوزی لینڈ کی منڈیوں میں کئی مصنوعات پر محصول سے راحت ملے گی، جبکہ نیوزی لینڈ کو اپنی تقریباً پچانوے فیصد برآمدات پر محصول میں کمی یا چھوٹ حاصل ہوگی۔
ان برآمدی اشیاء میں اون، کوئلہ، لکڑی، سمندری غذا، چیری، ایووکاڈو اور بلیوبیری شامل ہیں۔ تاہم، ہندوستان نے اپنے گھریلو کسانوں اور صنعتوں کے تحفظ کے لیے دودھ، پیاز، چینی، مصالحہ جات، خوردنی تیل اور ربڑ جیسے حساس شعبوں کو اس رعایت سے باہر رکھا ہے۔
اس معاہدے کی ایک نمایاں خصوصیت پیشہ ور افراد کے لیے آسان نقل و حرکت ہے۔ نیوزی لینڈ ہر سال پانچ ہزار ہندوستانی پیشہ ور افراد کو عارضی روزگار ویزا فراہم کرے گا، جس کے تحت وہ تین سال تک وہاں کام کر سکیں گے۔ ان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، صحت، تعلیم اور تعمیرات کے ماہرین کے ساتھ یوگا اساتذہ، آیوش معالجین، باورچی اور موسیقی کے اساتذہ بھی شامل ہوں گے۔
زرعی شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے ایک خصوصی زرعی ٹیکنالوجی منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے، جس میں کیوی، سیب اور شہد جیسی مصنوعات پر توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، نیوزی لینڈ نے ہندوستانی جغرافیائی شناختی مصنوعات کے تحفظ اور رجسٹریشن کو آسان بنانے کے لیے اپنے قوانین میں تبدیلی کا بھی یقین دلایا ہے۔
یہ معاہدہ غیر محصولی رکاوٹوں کو کم کرنے، کسٹم عمل کو بہتر بنانے اور صحت و نباتاتی معیارات کو مستحکم کرنے کے اقدامات بھی شامل کرتا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات مزید مضبوط ہونے کی امید ہے۔