ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / ایس آئی آر کے خلاف مختلف طبقات کا وفد وزیراعلیٰ سے ملاقات، “اسٹاپ ایس آئی آر” قرارداد کا مطالبہ

ایس آئی آر کے خلاف مختلف طبقات کا وفد وزیراعلیٰ سے ملاقات، “اسٹاپ ایس آئی آر” قرارداد کا مطالبہ

Sat, 09 May 2026 18:59:53    S O News
ایس آئی آر کے خلاف مختلف طبقات کا وفد وزیراعلیٰ سے ملاقات، “اسٹاپ ایس آئی آر” قرارداد کا مطالبہ

بنگلورو ، 9/ مئی (ایس اونیوز /ایجنسی) ریاست کی مختلف سماجی، کسان، دلت، اقلیتی، خواتین، طلبہ اور پسماندہ طبقات کی تنظیموں پر مشتمل ایک وفد نے ’’یددیلو کرناٹکا‘‘ کے بینر تلے وزیرِ اعلیٰ سدارامیا اور نائب وزیرِ اعلیٰ ڈی کے شیوکمار سے ملاقات کرکے مجوزہ “ایس آئی آر” پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور حکومت سے “اسٹاپ ایس آئی آر” کے حق میں قرارداد منظور کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ ملاقات سرکاری رہائش گاہ کرشنا میں منعقد ہوئی جس میں کرناٹکا مسلم متحدہ محاذ، کسان و دلت تنظیموں کا اتحاد، پسماندہ طبقات کی انجمنیں، خواتین، آدی واسی، طلبہ اور نوجوان تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے۔

وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ “ایس آئی آر” دراصل سی اے اے اور این آر سی کی ایک نئی شکل ہے، جس کے ذریعے بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کا خدشہ ہے۔ وفد کے مطابق جن ریاستوں میں اس عمل کو نافذ کیا گیا وہاں تقریباً 6.5 کروڑ ووٹروں کے نام فہرست سے حذف ہوئے۔ مغربی بنگال میں 96 لاکھ ووٹروں کے نام حذف کیے گئے، جن میں سے 36 لاکھ افراد نے مکمل دستاویزات کے ساتھ الیکشن کمیشن سے رجوع کیا، اس کے باوجود انہیں ووٹنگ کا حق نہیں دیا گیا۔

معروف ماہرِ معاشیات پرکالا پربھاکر نے ایس آئی آر کے ممکنہ اثرات اور خامیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی، جبکہ مغربی بنگال، تمل ناڈو اور راجستھان سے آئے نمائندوں نے اپنی ریاستوں کے تجربات بیان کرتے ہوئے کرناٹکا کو ایک مثالی جمہوری ریاست بنانے پر زور دیا۔

اس موقع پر ریاستی وزراء سنتوش لاڈ، پریانک کھرگے، کے جے جارج، این ایس بوس راجو، شیو راج تنگڈگی، شرن پرکاش پاٹل، لکشمی ہبالکر اور ایچ کے پاٹل بھی موجود تھے۔

وفد نے مطالبہ کیا کہ اگر ایس آئی آر نافذ کیا جاتا ہے تو ووٹر لسٹ کی تیاری پنچایت سطح پر کی جائے، وارڈ سطح پر ہیلپ ڈیسک قائم ہوں اور پنچایت سے لے کر تحصیل و ضلع سطح تک سرکاری افسران عوام کی رہنمائی اور مدد کو یقینی بنائیں۔

وفد نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اگر کسی ووٹر کا نام حذف کیا جاتا ہے تو اسے ٹریبونل سے رجوع کرنے کے لیے کم از کم چھ ماہ کی مہلت دی جائے۔ ساتھ ہی منتخب عوامی نمائندوں کو بھی عوام کی مدد کے لیے متحرک رکھنے پر زور دیا گیا۔

وزیرِ اعلیٰ سدارامیا، نائب وزیرِ اعلیٰ ڈی کے شیوکمار، پریانک کھرگے، سنتوش لاڈ اور ایچ کے پاٹل نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ووٹروں کی رہنمائی اور تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس سلسلہ میں مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔

وفد نے حکومت کے اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا جس کے تحت پنچایت انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعے کرانے اور ووٹر فہرستوں کی ازسرِنو ترتیب دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔


Share: