بنگلورو، 9/ مئی (ایس اونیوز /ایجنسی) ریاستی وزیر برائے مالگزاری کرشنا بائرے گوڑا نے کہا ہے کہ عوام کو سکالا گارنٹی خدمات مقررہ وقت میں فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ای۔گورننس نظام کو مزید مؤثر بنا کر خدمات کو تیز، شفاف اور رشوت سے پاک بنایا جائے گا۔ وہ زرعی، ٹرانسپورٹ، تعلیمی اور پیشہ ورانہ ٹیکس محکموں کے تحت فراہم کی جانے والی سکالا خدمات کے جائزہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ اگر سکالا خدمات وقت پر فراہم کرنی ہیں تو متعلقہ تمام محکموں کا مکمل ڈیٹا فوری طور پر دستیاب ہونا چاہیے۔ اسی مقصد کے تحت گزشتہ ڈھائی برسوں سے ’’کُٹمب‘‘ ڈیٹابیس کو مسلسل اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی خدمات کو خودکار نظام کے تحت لانا ضروری ہے تاکہ عوام کو جلد خدمات مل سکیں اور رشوت، تاخیر اور عوامی استحصال کا خاتمہ ہو۔ ان کے مطابق آٹومیشن سے شفافیت میں اضافہ ہوگا اور سرکاری خدمات زیادہ مؤثر بنیں گی۔
مسٹر کرشنا بائرے گوڑا نے کہا کہ سکالا کے تحت مختلف محکموں کی کئی خدمات آؤٹ سورسنگ کے ذریعے چل رہی ہیں، اس لیے کنٹراکٹ ملازمین کی تنخواہیں بھی ’’کُٹمب ایپ‘‘ کے ذریعے ادا کرنے کا نظام بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے پیشہ ورانہ ٹیکس کو بھی ’’کُٹمب‘‘ نظام کے ساتھ مربوط کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ یہ ٹیکس پہلے ہی آن لائن وصول کیا جا رہا ہے، اس لیے اس کا انضمام مشکل نہیں ہے۔ اسی طرح جی ایس ٹی نظام کو بھی مربوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اجلاس میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کے عمل کو مزید شفاف بنانے پر بھی تبادلۂ خیال ہوا۔ وزیر نے سوال اٹھایا کہ جب ڈرائیونگ لائسنس کے لیے آدھار لازمی ہے تو پھر گاڑیوں کی رجسٹریشن کے لیے آدھار ای۔کے۔وائی۔سی لازمی کیوں نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جائیداد کی رجسٹریشن کے لیے آدھار، پین کارڈ یا پاسپورٹ میں سے ایک دستاویز لازمی قرار دی گئی ہے، اسی طرح گاڑی بھی ایک قسم کی جائیداد ہے، اس لیے اس کی رجسٹریشن کے وقت آدھار ای۔کے۔وائی۔سی لازمی بنانا مناسب ہوگا۔