بنگلورو، 9/ مئی (ایس اونیوز /ایجنسی) ریاستی کابینہ نے دھارواڑ ریجنل سائنس سینٹر میں جدید ٹو ڈی فور کے ڈی ڈیجیٹل پلانیٹوریم کے قیام کو منظوری دے دی ہے۔ یہ جانکاری چھوٹی آبپاشی، سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر این ایس بوسراجو نے ایک اخباری بیان میں دی۔ انہوں نے بتایا کہ شمالی کرناٹک کے طلبہ میں فلکیات اور سائنسی علوم کے تئیں دلچسپی پیدا کرنے کے مقصد سے شروع کیا گیا یہ منصوبہ تکنیکی اور مالی رکاوٹوں کے باعث کئی برسوں سے تعطل کا شکار تھا، تاہم اب ریاستی کابینہ نے ترمیم شدہ منصوبے کو منظوری دے کر اس کی راہ ہموار کر دی ہے۔
وزیر موصوف نے بتایا کہ سال 2017 میں حکومت نے دھارواڑ سائنس سینٹر میں 15 میٹر قطر والے تھری ڈی ایٹ کے پلانیٹوریم کی تعمیر کے لیے 22 کروڑ روپے منظور کیے تھے۔ اس رقم میں سے تقریباً 9.31 کروڑ روپے خرچ کرتے ہوئے عمارت، سیپٹک ٹینک اور دیگر بنیادی تعمیراتی کام مکمل کیے جا چکے تھے، لیکن کورونا وبا اور آلات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہونے کے سبب 2020 میں منصوبہ رک گیا تھا۔ صرف پلانیٹوریم کے آلات کی لاگت تقریباً 29.5 کروڑ روپے تک پہنچ گئی تھی۔
این ایس بوسراجو نے کہا کہ ماہرین کی کمیٹی کی سفارش پر حکومت نے اب دستیاب باقی رقم 12.69 کروڑ روپے کے اندر جدید ٹو ڈی فور کے پروجیکشن سسٹم، ڈوم، سافٹ ویئر اور آڈیو نظام نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ مالیات اور ریاستی کابینہ نے اس ترمیم شدہ تجویز کو منظوری دے دی ہے اور جلد ہی کرناٹک سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پروموشن سوسائٹی کے ذریعے آلات کی خریداری کا عمل شروع کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ دھارواڑ میں یہ جدید پلانیٹوریم شمالی کرناٹک کے طلبہ میں سائنس کے رجحان کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ حکومت اضافی مالی بوجھ ڈالے بغیر دستیاب وسائل کے اندر اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے اور جلد ہی باقی کام مکمل کرکے اسے عوام اور طلبہ کے لیے وقف کیا جائے گا۔