ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / جنتر منتر پہنچنے کی کوشش پر سی جے پی کے آشوتوش رانکا اور سورَو داس پولیس کی حراست میں

جنتر منتر پہنچنے کی کوشش پر سی جے پی کے آشوتوش رانکا اور سورَو داس پولیس کی حراست میں

Tue, 13 Oct 2026 17:12:01    S O News

نئی دہلی، 13/ اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی)سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے سوشل میڈیا پر احتجاج کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے لیڈروں اشوتوش رانکا، سورَو داس اور اجنکیا شندے کے ساتھ دیگر کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ ویڈیو میں کارکنوں کو ہاتھوں میں ترنگا لیے گیٹ اور بیریکیڈ پھلانگ کر جنتر منتر کے احاطے میں داخل ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس دوران انہوں نے ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ اور ’’انقلاب زندہ باد‘‘ کے نعرے لگائے۔ پولیس اہلکاروں نے انہیں روکنے کی کوشش کی اور بعد ازاں حراست میں لے کر وہاں سے روانہ ہوگئے۔ ابھیجیت دپکے نے اس کارروائی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’احتجاج کو مقررہ مقام کی فہرست سے خارج کیا جاسکتا ہے، لیکن مزاحمت کو نہیں۔‘‘

دہلی پولیس نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ اب جنتر منتر کو دارالحکومت میں احتجاج اور دھرنے کے لیے مقررہ مقام نہیں سمجھا جائے گا۔ مرکزی وزارتِ داخلہ کے تحت قائم کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر احتجاج کے لیے تین نئے مقامات طے کیے گئے ہیں۔ ان میں رام لیلا میدان، براری میدان اور مشرقی دہلی کا سی بی ڈی میدان شامل ہیں۔ جنتر منتر وسطی دہلی میں واقع ہے اور طویل عرصے سے مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے احتجاج کا اہم مرکز رہا ہے۔ جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے خارج کیے جانے کے بعد سی جے پی نے اسے دوبارہ احتجاج کے لیے کھلوانے کا مطالبہ کیا تھا۔ پارٹی نے پولیس کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کی تاریخ مقرر کرنے کے لیے ۲۴؍ گھنٹے کی مہلت بھی دی تھی۔ اس کے باوجود پولیس کے فیصلے کے بعد پارٹی کارکنوں نے جنتر منتر پہنچ کر احتجاج کرنے کی کوشش کی۔

واضح رہے کہ یہ پیش رفت ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر جاری سیاسی احتجاج کے درمیان سامنے آئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور سی جے پی کے کارکنوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کارروائی اور ان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ ناقدین کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں سے بعض ووٹروں کے نام غیر منصفانہ طور پر حذف ہوئے اور اس عمل سے حکمراں بی جے پی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن نے کسی سیاسی جماعت کی حمایت کرنے کے الزام کو مسترد کیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ جن ووٹروں کے نام غلطی سے حذف ہوئے ہیں، وہ دوبارہ اندراج کراسکتے ہیں۔ بی جے پی نے بھی اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی عمل پر اس طرح سوال اٹھانے سے جمہوری اداروں پر اعتماد متاثر ہوتا ہے۔

گزشتہ چند دنوں سے دہلی میں احتجاج اور پولیس کارروائیوں کے باعث سیاسی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ ۱۰؍ اکتوبر کو سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے، اشوتوش رانکا اور سورَو داس دہلی پہنچنے کے فوراً بعد حراست میں لے لیے گئے تھے۔ اس کے بعد بھی پولیس نے احتجاج کرنے والے متعدد افراد کو حراست میں لیا۔ پیر کو اپوزیشن اتحاد انڈیا سے وابستہ جماعتوں کے کارکنوں نے بھی ووٹر فہرستوں کے معاملے پر احتجاجی مارچ کیا۔ ابھیجیت دپکے نے جنتر منتر کو احتجاجی مقام کی فہرست سے خارج کیے جانے پر کہا ہے کہ اس اقدام سے احتجاج ختم نہیں ہوں گے بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج کے نئے مراکز سامنے آئیں گے۔ ان کے مطابق جنتر منتر کو بند کرنے سے عوامی مزاحمت کو روکا نہیں جاسکتا۔


Share: