ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ارنَب طوفان سے آندھرا پردیش میں تباہی؛ بجلی کا کرنٹ لگنے سے دو اموات، ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل

ارنَب طوفان سے آندھرا پردیش میں تباہی؛ بجلی کا کرنٹ لگنے سے دو اموات، ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل

Wed, 28 Oct 2026 21:37:57    S O News
ارنَب طوفان سے آندھرا پردیش میں تباہی؛ بجلی کا کرنٹ لگنے سے دو اموات، ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل

املاک، سڑکوں اور کھڑی فصلوں کو نقصان؛ اڈیشہ میں بھی شدید بارش، پروازیں اور ٹرین خدمات متاثر

نئی دہلی، 28 اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسیز): خلیج بنگال میں اٹھنے والے شدید سمندری طوفان ’ارنَب‘ نے بدھ کی صبح آندھرا پردیش اور یانم کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کے بعد بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ طوفانی ہواؤں، موسلادھار بارش اور سیلابی صورتحال کے باعث متعدد مکانات، سڑکوں، بجلی کے نظام اور کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، آندھرا پردیش میں بجلی کا کرنٹ لگنے کے دو الگ الگ واقعات میں دو افراد کی موت ہوئی، جبکہ بعض میڈیا رپورٹس میں مجموعی طور پر تین اموات کی اطلاع دی گئی ہے۔ حکام نے طوفان کے پیش نظر آندھرا پردیش اور پڑوسی ریاست اڈیشہ میں ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات اور امدادی کیمپوں میں منتقل کیا۔

محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی) کے مطابق، طوفان نے آندھرا پردیش اور یانم کے ساحل کو بدھ کی صبح تقریباً 2 بجے سے 8 بجے کے درمیان عبور کیا۔ اس دوران ہوا کی رفتار 125 سے 135 کلومیٹر فی گھنٹہ رہی، جبکہ جھکڑوں کی رفتار 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی۔ ساحل عبور کرنے کے بعد طوفان کی شدت میں کمی آئی اور اسے انتہائی شدید طوفان سے شدید سمندری طوفان کے درجے میں رکھا گیا۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ طوفان کے کمزور ہونے کے باوجود ساحلی آندھرا پردیش اور اڈیشہ کے بعض علاقوں میں شدید بارش اور تیز ہواؤں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔

بجلی کا کرنٹ لگنے سے اموات

’دی نیو انڈین ایکسپریس‘ اور دیگر میڈیا اداروں کی رپورٹوں کے مطابق، آندھرا پردیش میں دو افراد کی موت بجلی کے تاروں سے کرنٹ لگنے کے باعث ہوئی۔ ایک 53 سالہ شخص منگل کی رات کھیت کے قریب ٹوٹے ہوئے بجلی کے تار کی زد میں آکر ہلاک ہوگیا، جبکہ اناکاپلی ضلع کے یلمَنچیلی قصبے میں ایک خاتون کی موت گھر کے باہر کھلے بجلی کے تار پر قدم پڑنے سے ہوئی۔

ابتدائی سرکاری بیانات میں وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے کہا تھا کہ طوفان کے باعث کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تاہم، بعد میں بجلی کے کرنٹ سے ہونے والی اموات کی خبریں سامنے آئیں۔ بعض میڈیا رپورٹس میں تین اموات بتائی گئی ہیں، لیکن دستیاب اطلاعات میں تیسری موت کی تفصیلات یکساں نہیں ہیں۔

مکانات، سڑکوں اور فصلوں کو نقصان

کاکیناڈا، کوناسیما، مشرقی گوداوری، مغربی گوداوری، اناکاپلی اور وشاکھاپٹنم سمیت کئی ساحلی اضلاع طوفان سے متاثر ہوئے ہیں۔ تیز ہواؤں کے باعث سیکڑوں درخت اور بجلی کے کھمبے اکھڑ گئے، جس سے سڑکوں پر آمدورفت متاثر ہوئی اور کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہوگئی۔

’ہندوستان ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق، وزیر اعلیٰ نائیڈو نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو بھیجے گئے خط میں ابتدائی تخمینوں کی بنیاد پر بتایا کہ تقریباً 70,900 ہیکٹر رقبے پر کھڑی زرعی اور باغبانی فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔ ان میں تقریباً 10,450 ہیکٹر رقبے کی فصلوں کے زیر آب آنے یا براہ راست نقصان پہنچنے کی اطلاع دی گئی۔ تقریباً 180 مکانات کو نقصان پہنچنے کی بھی رپورٹ ہے، جن میں زیادہ تر کوناسیما ضلع میں واقع ہیں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ نقصانات کا حتمی تخمینہ زمینی جائزے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

کاکیناڈا کے قریب اُپّادا ساحلی علاقے میں سمندری لہروں اور تیز ہواؤں نے خاص طور پر نقصان پہنچایا۔ مقامی رپورٹوں کے مطابق، ساحلی سڑک کا ایک حصہ بہہ گیا، جبکہ بعض مکانات کو نقصان پہنچا اور کئی مقامات پر درخت اور بجلی کے کھمبے گرنے سے راستے بند ہوگئے۔

ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد کا انخلا

حکام کے مطابق، آندھرا پردیش میں دسیوں ہزار افراد کو امدادی کیمپوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ اڈیشہ میں بھی نشیبی اور خطرے سے دوچار علاقوں سے لوگوں کو نکالا گیا۔ مختلف رپورٹوں میں آندھرا پردیش سے تقریباً 57 ہزار سے 84 ہزار سے زائد افراد کے انخلا کی اطلاعات ہیں، جبکہ اڈیشہ میں 30 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ دونوں ریاستوں میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد کے انخلا کی اطلاع رائٹرز نے دی ہے۔

آندھرا پردیش حکومت نے نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی 16 اور اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی 11 ٹیمیں مختلف اضلاع میں تعینات کیں۔ امدادی کیمپوں میں خوراک، پینے کے پانی اور طبی سہولتوں کی فراہمی کے علاوہ سڑکوں سے گرے ہوئے درخت ہٹانے اور بجلی بحال کرنے کے اقدامات بھی کیے گئے۔

اڈیشہ میں شدید بارش کا الرٹ

طوفان کے اثرات پڑوسی ریاست اڈیشہ میں بھی محسوس کیے گئے، جہاں جنوبی اور مغربی اضلاع میں شدید سے انتہائی شدید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا۔ ’دی نیو انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق، اڈیشہ میں سات اضلاع سے 31 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ محکمہ موسمیات نے کئی اضلاع میں اچانک سیلاب کے خطرے سے متعلق انتباہ جاری کیا، جبکہ امدادی ٹیموں کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تیار رکھا گیا۔

پروازیں اور ٹرین خدمات متاثر

طوفان کے باعث آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم، وجئے واڑہ اور راجمندری ہوائی اڈوں پر فضائی آپریشن متاثر ہوئے۔ متعدد پروازیں منسوخ کی گئیں یا ان کے اوقات میں تبدیلی کی گئی۔ ریلوے خدمات بھی متاثر ہوئیں اور مختلف روٹس پر 50 سے زائد ٹرینوں کی منسوخی یا تبدیلی کی اطلاعات سامنے آئیں۔ حکام نے مسافروں کو سفر سے قبل متعلقہ ایئرلائنز اور ریلوے کی تازہ اطلاعات حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔

آندھرا پردیش حکومت نے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں، بجلی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حکام کے مطابق، بارش اور سیلاب کے خطرے کے پیش نظر امدادی ٹیمیں تعینات رہیں گی اور نقصانات کا تفصیلی جائزہ مکمل ہونے کے بعد متاثرہ خاندانوں اور کسانوں کے لیے امدادی اقدامات کیے جائیں گے۔


Share: