ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / تہواروں کے موسم میں مہنگائی کی مار، جئے رام رمیش کی مودی حکومت پر سخت تنقید

تہواروں کے موسم میں مہنگائی کی مار، جئے رام رمیش کی مودی حکومت پر سخت تنقید

Mon, 12 Oct 2026 17:00:06    S O News

نئی دہلی  ، 12/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی )مودی حکومت کے دور اقتدار میں بڑھتی مہنگائی کو لے کر کانگریس نے ایک بار پھر حملہ آور رخ اختیار کیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے الزام لگایا ہے کہ مہنگائی نے عام لوگوں کی زندگی دشوار کر دی ہے اور اب گھریلو بجٹ سنبھالنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایک طرف تہواروں کے موسم میں روزمرہ استعمال کی اشیا، مسالوں، میووں اور مٹھائیوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، تو دوسری طرف ٹی وی، فریج جیسے الیکٹرانک سامان اور باورچی خانے میں استعمال ہونے والے برتنوں کی قیمتوں میں بھی اضافے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ ایسے میں غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں پر معاشی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کی رفتار بے قابو ہو چکی ہے اور اس کا براہ راست اثر عام خاندانوں کی جیب پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے ہندی روزنامہ ’ہندوستان‘ کی ایک خبر کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا، جس میں مسالوں سے لے کر میووں تک کی قیمتوں میں اضافے کا ذکر کیا گیا ہے۔

کانگریس لیڈر نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’اچھے دن‘ کا نعرہ لگانے والوں کی ناکامی کا نتیجہ یہ ہے کہ آج لوگوں کے لیے گھر چلانا مشکل ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی مار صرف کسی ایک طبقے تک محدود نہیں، بلکہ غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کو روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی اپنے اخراجات میں کٹوتی کرنی پڑ رہی ہے۔

دراصل تہواروں کا موسم عام طور پر خاندانوں کے لیے خوشیوں، خریداری اور باہمی میل جول کا وقت ہوتا ہے، لیکن بڑھتی قیمتیں ان خوشیوں پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہی ہیں۔ مسالوں، میووں اور مٹھائیوں جیسی اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے تہواروں کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب، ٹی وی اور فریج جیسے گھریلو الیکٹرانک سامان اور باورچی خانے کے برتنوں کی قیمتوں میں 10 سے 25 فیصد تک اضافے کی خبریں بھی سامنے آنے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ جئے رام رمیش نے اسی صورت حال کو بنیاد بناتے ہوئے حکومت پر تنقید کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب عام خاندان پہلے ہی روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہوں، ایسے میں ضروری اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافہ ان کی مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ تہواروں کے دوران خریداری اور گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے لوگوں کو یا تو زیادہ رقم خرچ کرنی پڑتی ہے یا پھر اپنی ضرورتوں کو محدود کرنا پڑتا ہے۔

مہنگائی کا یہ دباؤ صرف بازار سے سامان خریدنے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کا اثر خاندانوں کی مجموعی مالی منصوبہ بندی پر بھی پڑتا ہے۔ کھانے پینے کی اشیا اور گھریلو ضروریات پر زیادہ رقم خرچ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تعلیم، علاج، سفر اور دیگر ضروری اخراجات کے لیے دستیاب رقم کم ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر محدود آمدنی والے خاندانوں کے لیے قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی گھریلو بجٹ کو متاثر کر سکتا ہے۔

جئے رام رمیش نے اپنے بیان میں ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی ریپو ریٹ میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے قرض اور ماہانہ قسطوں، یعنی ای ایم آئی، کے بوجھ میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔ ان کے مطابق، مہنگائی کے ساتھ قرض کی ادائیگیوں کا دباؤ بڑھنے سے عام لوگوں کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔ اگر قرض پر سود کی شرح میں اضافے کا اثر بینکوں کے قرضوں پر پڑتا ہے تو گھر، گاڑی یا دیگر ضروریات کے لیے قرض لینے والے صارفین کی ماہانہ قسطیں بڑھ سکتی ہیں۔ اس سے ان خاندانوں کے بجٹ پر اضافی دباؤ پڑتا ہے، جن کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی قرض کی ادائیگی اور روزمرہ اخراجات میں صرف ہو رہا ہے۔ تاہم، ریپو ریٹ میں تبدیلی اور ہر قرض دار کی ای ایم آئی پر اس کے اثرات کا انحصار قرض کی نوعیت، سود کی شرح اور بینک کی شرائط پر ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے اثرات تمام قرض داروں پر یکساں نہیں ہوتے۔

کانگریس جنرل سکریٹری نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ گزشتہ ماہ کی مہنگائی کے سرکاری اعداد و شمار کا اعلان اسی شام کیا جانا تھا۔ انہوں نے ماہرینِ معاشیات کے اندازوں کا حوالہ دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ خوردہ مہنگائی مسلسل چھٹے مہینے بڑھ کر 5.60 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جو 23 مہینوں کی بلند ترین سطح ہوگی۔ اگر خوردہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ صارفین کو اشیا اور خدمات کے لیے پہلے کے مقابلے میں زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ البتہ مہنگائی کی اصل صورت حال کا اندازہ سرکاری اعداد و شمار جاری ہونے کے بعد ہی لگایا جا سکتا ہے۔ جئے رام رمیش نے اسی خدشے کو بنیاد بنا کر حکومت سے سوال کیا ہے کہ آخر عام لوگوں کو بڑھتی مہنگائی کا بوجھ کب تک برداشت کرنا پڑے گا۔

جئے رام رمیش نے وزیر اعظم نریندر مودی کو براہ راست نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی سے عام لوگوں کو شدید پریشانی ہو رہی ہے، لیکن وزیر اعظم کو عوام کا یہ دکھ درد محسوس نہیں ہو رہا اور وہ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ کانگریس لیڈر کی تنقید کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ حکومت کے ’اچھے دن‘ کے وعدوں اور عام لوگوں کی موجودہ معاشی مشکلات کے درمیان واضح تضاد نظر آ رہا ہے۔ ان کے مطابق، اگر ضروری اشیا کی قیمتیں بڑھتی رہیں، گھریلو سامان مہنگا ہوتا جائے اور قرض کی ادائیگیوں کا بوجھ بھی بڑھے، تو عام خاندانوں کے لیے اپنی آمدنی اور اخراجات میں توازن قائم رکھنا مزید مشکل ہو جائے گا۔

مہنگائی پر سیاسی بحث کے درمیان اصل سوال یہ ہے کہ قیمتوں میں اضافے کا گھریلو بجٹ پر کتنا اثر پڑ رہا ہے اور حکومت عام صارفین کو راحت فراہم کرنے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔ کانگریس نے مودی حکومت سے اس مسئلے پر جواب طلب کیا ہے۔ جئے رام رمیش نے اپنے بیان کے آخر میں وزیر اعظم مودی سے سوال کیا کہ عام عوام کو اس معاشی پریشانی کو آخر کب تک برداشت کرنا پڑے گا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب تہواروں کے موسم میں خریداری اور گھریلو اخراجات کے بڑھنے کا خدشہ عام خاندانوں کے لیے ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔


Share: