ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / راہل گاندھی کا گیانیش کمار پر حملہ، ’ووٹ چوری کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر دباؤ میں، راتوں کو نیند نہیں آ رہی‘

راہل گاندھی کا گیانیش کمار پر حملہ، ’ووٹ چوری کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر دباؤ میں، راتوں کو نیند نہیں آ رہی‘

Mon, 12 Oct 2026 17:39:27    S O News

نئی دہلی ، 12/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی )’’ووٹ چوری، گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن کے ایشوز کو لے کر دہلی میں عوامی تحریک چل رہی ہے۔ غصہ بہت پہلے سے تھا، لیکن اب کھل کر سامنے آ رہا ہے۔‘‘ یہ بیان لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی آج ایک پریس کانفرنس کے دوران دیا۔ ساتھ ہی انھوں نے گزشتہ کچھ دنوں کے حالات پر فکر ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’’دہلی قید کیوں ہے؟ ہندوستان کی راجدھانی قید کیوں ہے؟ لوگوں کو دہلی پہنچنے سے روکا جا رہا ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے دہلی میں پولیس کے ذریعہ کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’دہلی کو قلعہ بنا دیا گیا ہے، لیکن ہماری حکمت عملی مختلف ہے۔ ہم ملک کو دکھانا چاہتے ہیں کہ نریندر مودی اور ان کی حکومت گیانیش کمار کو بچا رہی ہے۔‘‘ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جو کارروائی ہو رہی ہے، اس سے پولیس بھی پریشان ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’پولیس والے کہہ رہے ہیں، ہم سے ملک کے نوجوانوں کو پٹوایا جا رہا ہے، لیکن آر ایس ایس کے لوگوں کو آزاد گھومنے دیا جا رہا ہے۔ یہی بی جے پی-آر ایس ایس کے غنڈے خواتین کو پیٹ رہے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ پولیس، آئی ٹی بی پی، عوام، اپوزیشن پارٹیاں ایک طرف ہیں اور دوسری طرف مودی، شاہ، اجیت ڈووال، گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن کے ووٹ چور ہیں۔

راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی دعویٰ کیا کہ مودی حکومت کے 200 افسران ان کے رابطے میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ای ڈی، سی بی آئی، وزارت خارجہ کے اندر سے سبھی ہمیں جانکاریاں دے رہے ہیں۔‘‘ مودی حکومت کو چیلنج پیش کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’آپ کو جو کرنا ہے کرو، سچائی ہمارے ساتھ ہے۔‘‘ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’گیانیش کمار کی حالت ہم جانتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ رات کو سو نہیں پا رہے ہیں۔ انھوں نے جس طرح سے لاکھوں لوگوں کے حقوق چھینے ہیں، اس پر لوگ سوال پوچھ رہے ہیں۔‘‘ براہ راست گیانیش کمار کو مخاطب کرتے ہوئے کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ’’آپ بچیں گے نہیں۔ ہمارے پاس آپ کے متعلق جانکاری ہے۔ ہم آپ کے ماضی کو جانتے ہیں، ہمیں آپ کی ہر بدعنوانی کی خبر ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے باراکھمبا روڈ سے سپریم کورٹ کے لیے مجوزہ مارچ میں سبھی لوگوں سے شریک ہونے کی اپیل بھی کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’جو بھی آئین کی حفاظت کرنا چاہتا ہے، چاہے وہ کسی بھی پارٹی کا ہو، وہ آ سکتا ہے۔ اگر بی جے پی کے لوگ بھی سوچتے ہیں کہ آئین پر حملہ ہو رہا ہے، تو آپ بھی آ جاؤ۔‘‘ انھوں نے انتہائی واضح لفظوں میں کہا کہ ’’یہ آئین بچانے کی لڑائی ہے، آپ کے مستقبل کی لڑائی ہے۔ اگر آپ سیدھے نہیں آ سکتے، تو جب ہم 3 بجے سپریم کورٹ میں پٹیشن فائل کر رہے ہوں گے، تو آپ تعاون کا اظہار کریں اور خود کو سامنے لائیں۔ آپ ملک کو بتائیے کہ مودی حکومت جو کر رہی ہے وہ غلط ہے اور ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔ آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

گزشتہ کچھ دنوں میں سڑکوں پر اپوزیشن کے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کی کوششوں کا ذکر بھی راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’پہلے دن انڈیا اتحاد کے لیڈران الیکشن کمیشن جا رہے تھے، ہمیں روکا گیا اور بس میں ڈال دیا۔ دوسرے دن ہم جنتر منتر جا رہے تھے، وہاں بھی ہمیں روک دیا گیا اور ہمارے ساتھ دھکا مکی ہوئی۔ تیسرے دن اپوزیشن کے سارے لیڈران راج گھاٹ گئے۔‘‘ آج کے احتجاج کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’’آج ہم سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔ کانگریس صدر کھڑگے اور میں نے آج چیف جسٹس آف انڈیا کے سامنے اپنی بات رکھی اور ہندوستانی جمہوریت کے قتل و انتخابات میں غیر جانبداری کا ذکر کیا۔ عزت مآب چیف جسٹس نے ہدایت دی ہے کہ عرضی داخل کریں۔ اب انڈیا بلاک کے لیڈران اور میں سپریم کورٹ کی طرف مارچ کرنے والے ہیں تاکہ عرضی داخل کر سکیں۔ ہم سبھی ہندوستانیوں کو مدعو کرتے ہیں کہ وہ ہماری حمایت کریں۔‘‘

راہل گاندھی نے طلبا اور نوجوانوں کا اس بات کے لیے حوصلہ بھی بڑھایا کہ وہ ہندوستانی جمہوریت کو بچانے میں اہم کردار نبھا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہمیں ہر دن اس جنگ کو لڑنا ہے، رکنا نہیں ہے، پیچھے نہیں ہٹنا ہے۔ ہمیں روزانہ روکا جائے گا، لیکن ہمیں مضبوطی سے کھڑے رہنا ہے اور تھکنا نہیں ہے۔ ہم نہ تھکیں گے، نہ رکیں گے، کیونکہ سچ ہمارے ساتھ ہے۔ ہاریں گے وہی، جن کے ساتھ سچ نہیں ہے۔‘‘ ساتھ ہی وہ عزم ظاہر کرتے ہیں کہ ’’جب تک آئین کو برقرار نہیں رکھا جائے گا، جب تک چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دیں گے، جب تک انتخابی نظام میں اصلاح نہیں ہوگا، جب تک ہندوستان کے لوگوں کو انصاف نہیں ملے گا، تب تک ہندوستان کا نوجوان رکنے والا نہیں ہے۔‘‘ مودی حکومت کو چیلنج پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’چاہے جو کرنا ہے کر لو، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘‘


Share: