ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مدھیہ پردیش: وزیر کے ذات سرٹیفکیٹ تنازعہ پر ہائی کورٹ کی سختی، 60 دن میں جانچ مکمل کرنے کا حکم

مدھیہ پردیش: وزیر کے ذات سرٹیفکیٹ تنازعہ پر ہائی کورٹ کی سختی، 60 دن میں جانچ مکمل کرنے کا حکم

Sat, 25 Apr 2026 12:47:25    S O News

بھوپال  ، 25/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی)مدھیہ پردیش شہری انتظامیہ کی وزیر مملکت پرتیما باگری کے ذات پات سرٹیفکیٹ سے متعلق معاملے میں ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سنایا ہے۔ وزیر باگری کے ذات سرٹیفکیٹ تنازعہ پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے ہائی لیول کاسٹ اسکروٹنی کمیٹی کو 60 دنوں کے اندر جانچ مکمل کر کے حتمی فیصلہ دینے کی ہدایت دی ہے۔ جسٹس وویک اگروال اور جسٹس اویندر کمار سنگھ کی ڈویژن بنچ نے واضح کیا کہ اس طرح کے حساس معاملات میں غیر ضروری تاخیر انصاف کے مفاد میں نہیں ہے۔

عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ تحقیقات شفاف اور منصفانہ طریقے سے کی جائیں، فریقین کو سننے کا پورا موقع دیا جائے۔ درخواست گزار اور ریاست کو حکم کی کاپی 30 اپریل 2026 تک کمیٹی کو بھیجنے کا کام سونپا گیا ہے۔ یہ معاملہ کانگریس لیڈر پردیپ اہیروار کی طرف سے دائر ایک رٹ پٹیشن (WP-8658-2026) سے متعلق ہے، جس میں انہوں نے 31 مارچ 2025 کو وزیر کے درج فہرست ذات کے سرٹیفکیٹ کی صداقت پر سوال اٹھاتے ہوئے ایک شکایت درج کرائی تھی۔ درخواست گزار نے الزام لگایا کہ طویل عرصے سے زیر التوا شکایت عدالتی عمل کو متاثر کر رہی ہے۔ اس سے قبل اسی معاملے پر دائر کی گئی ایک اور پٹیشن (WP-5948/2026) ’لوکس‘ واضح نہ ہونے کی وجہ سے واپس لے لی گئی تھی، جس سے وزیر کو عارضی راحت ملی تھی تاہم عدالت نے تب مستقبل میں مناسب عمل کے تحت معاملہ اٹھانے کی چھوٹ دی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ پرتیما باگری ستنا ضلع کی رائے گاؤں (ایس سی) ریزرو سیٹ سے ایم ایل اے ہیں اور ان کے خلاف الزام ہے کہ وہ جس برادری سے تعلق رکھتی ہیں، وہ درج فہرست ذات کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔ درخواست گزار نے فرضی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر الیکشن لڑنے کا الزام لگایا ہے جب کہ وزیر نے ان الزامات کو مسلسل بے بنیاد قرار دیا اور اپنے دستاویزات کو درست بتایا۔ ہائی کورٹ کے حکم میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگر کمیٹی 30 جون 2026 تک کسی فیصلے پر پہنچنے میں ناکام رہتی ہے تو درخواست کو بحال کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ آنے والے دنوں میں اس معاملے کے قانونی اور سیاسی اثرات سامنے آنے کا امکان ہے۔


Share: