ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / آبنائے ہرمز بحران میں بڑا موڑ: امریکی وفد خالی ہاتھ واپس، ایران کا سخت مؤقف برقرار

آبنائے ہرمز بحران میں بڑا موڑ: امریکی وفد خالی ہاتھ واپس، ایران کا سخت مؤقف برقرار

Sun, 26 Apr 2026 00:40:51    S O News
آبنائے ہرمز بحران میں بڑا موڑ: امریکی وفد خالی ہاتھ واپس، ایران کا سخت مؤقف برقرار

تہران / واشنگٹن 25 اپریل (ایس او نیوز) — ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگی و سفارتی کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کرتی جا رہی ہے، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کی امیدیں معدوم ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ تازہ پیش رفت میں امریکا کے سفارتی نمائندے مذاکرات کی کوششیں ترک کر کے اسلام آباد سے خالی ہاتھ واپس لوٹ گئے، جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں، عالمی معیشت پر منڈلاتے خطرات اور سفارتی ناکامی نے اس تنازع کو ایک بڑے جیوپولیٹیکل بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔

آبنائے ہرمز: کنٹرول کی جنگ اور عالمی خطرات
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان کشمکش کا مرکز بن چکی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایران نے متعدد غیر ملکی بحری جہازوں کو روکنے اور بعض پر قبضہ کرنے کی کارروائیاں کیں، جس کے جواب میں امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری دباؤ بڑھا دیا، یوں “دوہری ناکہ بندی” کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

ادھر نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے سمندری بارودی سرنگوں اور حملوں کی دھمکیوں کے بعد امریکا جدید ڈرونز کے ذریعے بحری راستے محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ کشیدگی برقرار رہی تو عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔

سفارتی محاذ پر ناکامی
پاکستان میں ممکنہ امریکا–ایران مذاکرات کو اہم پیش رفت سمجھا جا رہا تھا، مگر یہ کوشش شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہو گئی۔ واشگٹن پوسٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد پہنچنے کے باوجود امریکی وفد سے ملاقات کیے بغیر واپس روانہ ہو گئے۔

ایران نے واضح کیا کہ وہ براہ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں اور صرف بالواسطہ بات چیت چاہتا ہے، جبکہ ماضی کی پابندیوں اور حملوں کے باعث امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا۔

امریکی وفد کی واپسی: اصل وجوہات
امریکی وفد، جس میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے، کی واپسی اس بحران کی سب سے اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق: ایرانی وزیر خارجہ کی روانگی سے مذاکرات کا مقصد ختم ہو گیا۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے خود اعتراف کیا کہ کسی پیش رفت کی امید نہیں رہی۔

مزید برآں، رائٹرس کے مطابق ایران نے امریکی مطالبات کو سخت قرار دیتے ہوئے پابندیوں کے خاتمے کو پہلی شرط رکھا، جس کے باعث واشنگٹن کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پڑ رہی ہے۔

ایران کا سخت مؤقف برقرار
ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ دباؤ میں آ کر کوئی معاہدہ نہیں کرے گا۔ داخلی سیاسی صورتحال اور قیادت کے حوالے سے غیر یقینی عوامل بھی مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں، جس کے باعث سفارتی راستہ تقریباً بند ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

“کیا نیتن یاہو نے ٹرمپ کو جنگ میں دھکیلا؟”
امریکی سیاست میں اس وقت ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران کے خلاف سخت اقدامات پر آمادہ کیا۔ اس انکشاف نے امریکا کی خارجہ پالیسی پر اسرائیلی اثر و رسوخ کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ایران–امریکہ کشیدگی کے باعث:
عالمی تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ اہم بحری تجارتی راستے متاثر ہو رہے ہیں، یوروپی ممالک ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے متحرک ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر بحران طول پکڑتا ہے تو عالمی کساد بازاری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

حالیہ پیش رفت سے واضح ہے کہ آبنائے ہرمز اب فوجی اور معاشی جنگ کا مرکز بن چکی ہے، امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی راستہ تقریباً بند ہو چکا ہے، اور امریکی وفد کی واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ مذاکرات فی الحال ناکام ہو گئے ہیں۔ تازہ حالات بتارہے ہیں کہ  خطہ ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑا ہے، اور اگر فوری سفارتی پیش رفت نہ ہوئی تو اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

خطے کی صورتحال نازک

ایسے میں خطے کی مجموعی صورتحال نہایت نازک بنتی جا رہی ہے، جہاں اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جاری فضائی کارروائیاں ایک نئے محاذ کو گرم رکھے ہوئے ہیں، جبکہ خلیجی ممالک بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات اور توانائی کے بحران کے خدشے کے باعث محتاط سفارتی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ بدلتے حالات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک غیر یقینی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں ہر نیا اقدام خطے کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے اور آنے والے دنوں میں صورتحال کا رخ طے کرے گا۔


Share: