ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مردم شماری 2027 میں ’سرنا‘ مذہب کے علیحدہ کوڈ کا مطالبہ، ہیمنت سورین کا صدر، وزیر اعظم اور گورنر کو خط

مردم شماری 2027 میں ’سرنا‘ مذہب کے علیحدہ کوڈ کا مطالبہ، ہیمنت سورین کا صدر، وزیر اعظم اور گورنر کو خط

Mon, 04 May 2026 11:29:38    S O News

رانچی، 4/ اپریل (ایس او نیوز/ایجنسی)جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے مردم شماری 2027 میں آدیواسی سماج کے سرنا مذہب کو الگ مذہبی کوڈ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے صدر دروپدی مرمو، وزیر اعظم نریندر مودی اور گورنر سنتوش کمار گنگوار کو باضابطہ خطوط ارسال کیے ہیں۔ انہوں نے اپنے خطوط میں سرنا مذہب کو آدیواسیوں کی عقیدت، روایت اور ثقافتی شناخت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے مردم شماری میں الگ زمرے کے طور پر شامل کیا جانا نہایت ضروری ہے۔

وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم کو لکھے گئے خط میں مردم شماری 2027 کے آغاز پر مرکزی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ حقائق پر مبنی پالیسی سازی کسی بھی ملک کی متوازن ترقی کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ 2021 میں مجوزہ مردم شماری مختلف وجوہات کی بنا پر ملتوی ہو گئی تھی، لیکن اب اس کا دوبارہ آغاز ایک مثبت پیش رفت ہے۔

ہیمنت سورین نے کہا کہ ریاستی حکومت اس پورے عمل میں مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے اور انہوں نے خود بھی اپنی گنتی درج کرا کے اس عمل میں حصہ لیا ہے۔ انہوں نے سرنا مذہب کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ آدیواسی سماج کی اپنی جداگانہ عبادت کی روایت ہے جس میں فطرت کی پرستش، گاؤں کے دیوتا، خاندانی دیوتا اور مخصوص تہوار شامل ہیں، جو اسے دیگر مذاہب سے ممتاز کرتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آزادی سے قبل ہونے والی مردم شماریوں میں مختلف مذاہب کو الگ الگ درج کیا جاتا تھا، لیکن آزادی کے بعد آدیواسی مذہب کو اس طرح کی واضح شناخت نہیں دی گئی۔ انہوں نے 2011 کی مردم شماری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ علیحدہ کوڈ نہ ہونے کے باوجود تقریباً پچاس لاکھ افراد نے خود کو سرنا مذہب سے وابستہ بتایا تھا، جو اس مطالبے کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے جھارکھنڈ اسمبلی سے منظور شدہ اس تجویز کا بھی ذکر کیا جس میں سرنا مذہب کوڈ کے حق میں متفقہ قرارداد پاس کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا قیام ہی آدیواسی شناخت کے تحفظ کے لیے ہوا تھا، اس لیے حکومتی پالیسیوں میں ان کی مذہبی اور ثقافتی خصوصیات کو شامل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں مردم شماری میں کسی بھی نئے کوڈ کو شامل کرنا تکنیکی طور پر ممکن اور عملی ہے۔ اسی سلسلے میں انہوں نے گورنر کو بھی خط لکھا اور آئین کے آرٹیکل 244 اور پانچویں شیڈول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ درج فہرست علاقوں اور قبائلی طبقات کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری گورنر پر عائد ہوتی ہے۔

ہیمنت سورین نے خبردار کیا کہ اگر مردم شماری میں کسی بھی سماج کی منفرد شناخت کو درج نہیں کیا گیا تو مستقبل کی پالیسی سازی اور ترقیاتی منصوبوں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ مردم شماری کے دوسرے مرحلے میں مذہب کے خانے میں سرنا مذہب کو علیحدہ شناخت دی جائے تاکہ آدیواسی سماج کے حقوق اور ثقافتی ورثے کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔


Share: