
ممبئی، 13/ اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی) جے این یو میں پی ایچ ڈی کی طالبہ نیہا بورا نے بہت کم وقت میں اپنی ذہانت، خطابت، جرأت اور شجاعت کے ذریعے ملک کی سول سوسائٹی اور قومی سیاست میں اپنی الگ پہچان بنائی ہے۔ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے جون جولائی کے احتجاج کے دوران 23 دن کی بھوک ہڑتال کے بعد وہ وسیع تر عوامی حلقوں میں نمایاں ہوئیں اور ان کی شناخت ایک بے باک اور پُرعزم نوجوان رہنما کے طور پر ہونے لگی۔
نیہا اس نسل کی نمائندگی کر رہی ہیں جو باخبر، بے باک اور اپنے خیالات کے اظہار میں واضح ہے۔ ان کی سرگرمیوں نے نئی نسل کے تعلق سے پائی جانے والی کئی بدگمانیوں کو بھی دور کیا ہے۔ سی پی آئی کی طلبہ تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی قومی صدر منتخب ہونا ان کے سیاسی سفر کا ایک اہم مرحلہ ہے، لیکن موجودہ حالات میں وہ خود کو محض ایک طلبہ تنظیم کی سربراہ تک محدود نہیں رکھ رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کی تقریروں کی ویڈیوز اور مختصر کلپس کو بڑی تعداد میں دیکھا اور سنا جا رہا ہے۔
سی پی آئی کے سینئر رہنماؤں، بالخصوص دیپانکر بھٹاچاریہ، کی خدمات اور سیاسی کردار کا اعتراف اپنی جگہ، لیکن نیہا بورا کو جس انداز میں عوامی توجہ حاصل ہو رہی ہے، وہ بھی قابل ذکر ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں، بلکہ ان کی سرگرمیوں، خطابت اور جدوجہد کا نتیجہ ہے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ نیہا صرف 23 دن کی بھوک ہڑتال کی وجہ سے سرخیوں میں آئیں۔ بلاشبہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک نے انہیں وسیع تر عوامی حلقوں میں متعارف کرایا، لیکن اس تحریک میں شرکت محض شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھی۔ جنتر منتر پر روزانہ ہزاروں طلبہ اور نوجوان پہنچتے تھے اور ہر کسی کے پاس اپنی آواز بلند کرنے کا موقع تھا۔ تاہم، بہت کم لوگ ایسے تھے جنہوں نے مشکل راستہ اختیار کرتے ہوئے تحریک کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری قبول کی۔
نیہا نے جنتر منتر پر ملنے والے اس موقع کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا۔ جون اور جولائی میں ہونے والی تحریک کے اختتام کے بعد بھی وہ خاموش نہیں بیٹھیں، بلکہ ’’رائزنگ جین زی‘‘ کے تحت طلبہ کے مسائل سننے، انہیں سمجھنے اور متاثرہ طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف شہروں کا دورہ کرتی رہیں۔ اب وہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف جاری تحریک میں سرگرم ہیں۔
اس جدوجہد میں نیہا تنہا نہیں ہیں، لیکن اپنے مقصد کے حصول کے لیے ان کا عزم، مسلسل سرگرمی اور مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ نوجوانوں کے مسائل کو اجاگر کرنے اور اپنے نظریات کے لیے آواز بلند کرنے کے ان کے انداز نے انہیں ایک ایسی شخصیت کے طور پر نمایاں کیا ہے جو شہرت سے آگے بڑھ کر عوامی مقبولیت حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔
(بشکریہ : روزنامہ انقلاب ، ممبئی ، بتاریخ 13 /اکتوبر 2026)