ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / امن معاہدے کے بعد مذاکرات کا نیا دور، سوئٹزرلینڈ میں امریکی وفد پہنچا، ایران کے مؤقف پر عالمی نظریں

امن معاہدے کے بعد مذاکرات کا نیا دور، سوئٹزرلینڈ میں امریکی وفد پہنچا، ایران کے مؤقف پر عالمی نظریں

Sun, 21 Jun 2026 12:21:13    S O News
امن معاہدے کے بعد مذاکرات کا نیا دور، سوئٹزرلینڈ میں امریکی وفد پہنچا، ایران کے مؤقف پر عالمی نظریں

زیورخ ، 21/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا اسٹیج تقریباً تیار ہے جس پر آج فریقین کے درمیان بات چیت کا آغاز ہوسکتا ہے۔ دونوں ممالک ایک عبوری معاہدے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس معاملے پر تکنیکی سطح کے مذاکرات اتوار سے شروع ہوں گے۔ یہ میٹنگ سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں ہوگی ۔ ان مذاکرات میں پاکستان مرکزی ثالث کے طور پر موجود رہے گا۔ پاکستان نے ہی اس ملاقات کی اطلاع دی۔ اس بات چیت میں قطری ثالث بھی حصہ لے رہے ہیں۔

کہا جارہا ہے کہ امریکہ ان مذاکرات کے لیے بہت سنجیدہ ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ہفتے کے روز واشنگٹن میں ایک اہم بات کہی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اعلیٰ امریکی مذاکرات کار سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔ ان مذاکرات کاروں میں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف شامل ہیں۔ دونوں رہنما وہاں مسلسل کام کر رہے ہیں، وہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تکنیکی تفصیلات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

امریکی نائب صدر ذاتی طور پر اس معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں۔ جے ڈی وینس نے ’فاکس نیوز‘ کے ساتھ خصوصی گفتگو میں کہا کہ وہ بھی اگلے چند دنوں میں سوئٹزرلینڈ کا سفر کر سکتے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے مذاکرات کو مربوط کرنا آسان نہیں ہوتا۔ یہ ہمیشہ ایک انتہائی حساس کام ہوتا ہے۔ اب سبھی کی نظریں اتوار کو ہونے والی اس ملاقات پر مرکوز ہیں۔

میٹنگ کو دنیا کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازعہ دیرینہ ہے۔ حالیہ عبوری معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہو سکتی ہے۔ پاکستان اور قطر اس تنازع کے حل کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ اگر اتوار کے تکنیکی مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو آگے کا راستہ واضح ہو جائے گا۔ اس ملاقات سے پوری دنیا کی امیدیں وابستہ ہیں۔

تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان ہوا امن معاہدہ ایک بار پھر خطرے میں پڑ گیا ہے۔ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے اعلان کے فوری بعد ایران نے ایک اور بڑا قدم اٹھایا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ملک کا ایک اعلیٰ سطحی وفد ہنگامی مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ جائے گا۔ ایران نے امریکہ کے ساتھ ڈیجیٹل طور پر دستخط شدہ مفاہمت کی یاد داشت کی شرائط کو پوری طرح نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ سخت رد عمل  جنگ بندی کے باوجود لبنان پر جاری اسرائیلی حملوں کے بعد آیا ہے۔

’تسنیم‘ نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بقائی نے امریکی موقف پر سنگین سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے معاہدے کے تحت اپنے تمام وعدے پورے کئے ہیں۔ اب یہ امریکہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل کی فوجی جارحیت پر فوری لگام لگائے۔ بقائی نے خبر دار کیا کہ لبنان میں جنگ بندی کی مسلسل ہورہی خلاف ورزی پورے امن معاہدے کو سبوتاژ کرسکتی ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اس امن معاہدے پر صرف برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر عمل کرے گا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایران ’عزم کے لیے عزم‘ کے اصول پر کام کر رہا ہے۔ شرائط کی کسی بھی خلاف ورزی کا ایران کی جانب سے مساوی اور سخت جواب دیا جائے گا۔


Share: