یلاپور، 12/ اپریل (ایس او نیوز) تین چار دن قبل یلاپور کے اریبیل گھاٹ پر کھائی میں انسانی ڈھانچے سمیت پائی گئی جلی ہوئی کار کا معاملہ اب حادثے کے بجائے منصوبہ بند قتل کی واردات کا رخ اختیار کرتا ہوا محسوس ہو رہا ہے ۔
گھاٹ کے تالے کمبری کراس پر مکمل طور پر جلی ہوئی کار اور اس کے اندر انسانی ڈھانچہ دستیاب ہونے کے بعد بیلگاوی کے رہنے والے جگن ناتھ دھاپلے نامی ایک شخص نے یلاپور پولیس اسٹیشن میں پہنچ کر شکایت درج کروائی تھی اور جلی ہوئی کار اور اس میں موجود جلا ہوا انسانی ڈھانچہ اس کے نتیش بیٹے کا ہے یا نہیں اس کی تفتیش کا مطالبہ کیا تھا ۔ پولیس نے حادثے کی وجہ سے کار میں آگ لگنے کا معاملہ سمجھتے ہوئے کیس درج کر لیا تھا ۔
اب جگن ناتھ دھاپلے نے دوبارہ یلاپور پولیس اسٹیشن میں پہنچ کر ایک اور شکایت درج کروائی ہے جس میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ نعیم نامی ایک شخص اور اس کے ساتھیوں نے مل کر اس کے بیٹے نتیش کا منصوبہ بند قتل کیا ہوگا اور پھر اس کے بعد لاش کار میں اریبیل گھاٹ پر لانے کے بعد اس میں آگ لگا کر نشیب میں دھکا دے گراتے ہوئے حادثہ ثابت کرنے اور پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہوگی ۔
دھاپلے نے اپنی شکایت میں پولیس کو بتایا ہے کہ نتیش کی بیوی گنگمّا کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق نتیش نے 7 اپریل کو اسے فون کرکے بتایا تھا کہ وہ نعیم کے ساتھ گوا جا رہا ہے ۔ اس وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ نعیم اور اس کے دوستوں نے اس کے بیٹے کو گوا لے جانے کا کہہ کر یہاں لا کر قتل کیا ہوگا اور کار کی پچھلی سیٹ پر نعیم کی لاش کے ساتھ کار کو جلا دیا گیا ہوگا ۔
جگن ناتھ دھاپلے نے اس پس منظر میں پولیس سے اپیل کی ہے کہ اب اس معاملے کو منصوبہ قتل کے روپ میں دیکھتے ہوئے تحقیقات کی جائیں اور اس کے پیچھے جو سازش ہے اس کا پتہ لگایا جائے ۔