ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مالیگاؤں 2006 بم دھماکہ کیس: ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، چار ملزمان بری

مالیگاؤں 2006 بم دھماکہ کیس: ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، چار ملزمان بری

Thu, 23 Apr 2026 10:42:06    S O News

ممبئی، 23/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی)بامبے ہائی کورٹ نے 2006 کے مالیگاؤں دھماکہ کیس میں چار ملزمان کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کرتے ہوئے ان کے خلاف عائد الزامات کو ختم کر دیا، جس سے اس طویل عرصے سے زیر سماعت مقدمے میں ایک اہم موڑ آیا۔

عدالت کا یہ فیصلہ چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم ڈویژن بنچ نے سنایا، جس میں جسٹس شیام چندک بھی شامل تھے۔ عدالت کے مطابق قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد قانونی معیار پر پورے نہیں اترتے۔

بری کیے جانے والے ملزمان میں راجندر چودھری، منوہر رام سنگھ نرواریا، دھن سنگھ اور لوکیش شرما شامل ہیں۔

سماعت کے دوران این آئی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ متعدد گواہوں نے ملزمان کے خلاف بیانات دیے ہیں، تاہم عدالت نے مشاہدہ کیا کہ یہ بیانات مضبوط اور قابلِ اعتماد ثبوت فراہم کرنے کے لیے کافی نہیں تھے۔

یہ مقدمہ 8 ستمبر 2006 کو مالیگاؤں میں ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں سے متعلق ہے، جس میں 31 افراد ہلاک اور 312 زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ابتدائی طور پر اس کیس کی تحقیقات مہاراشٹر اے ٹی ایس نے کی تھیں، جس میں 12 افراد کو گرفتار کر کے دسمبر 2006 میں چارج شیٹ داخل کی گئی۔

بعد ازاں فروری 2007 میں تحقیقات سی بی آئی کو منتقل کی گئیں اور پھر یہ معاملہ این آئی اے کے حوالے کیا گیا، جس نے مزید جانچ کرتے ہوئے ضمنی چارج شیٹ میں ان چار ملزمان کے نام شامل کیے تھے۔

اس سے قبل نو مسلم ملزمان کو کلین چٹ دیے جانے کے بعد این آئی اے نے ان چار افراد کو گرفتار کیا تھا۔ ملزمان نے ابتدائی طور پر نچلی عدالت میں بریت کی درخواست دی تھی، جس کی مخالفت این آئی اے اور متاثرین کی جانب سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی قانونی کمیٹی نے کی تھی، تاہم ٹرائل کورٹ نے درخواست مسترد کر کے مقدمے کی سماعت شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔


اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ملزمان نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جہاں جنوری 2026 میں عدالت نے اپیل دائر کرنے میں 49 دن کی تاخیر کو منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی کارروائی پر عبوری روک لگا دی تھی۔

سماعت کے دوران عدالت نے این آئی اے سے براہِ راست گواہوں کے بارے میں استفسار کیا، جس پر ایجنسی نے اعتراف کیا کہ کوئی عینی شاہد موجود نہیں، تاہم اس نے سازش کا حصہ ہونے کا مؤقف پیش کیا، جسے عدالت نے ناکافی قرار دیا۔

اس فیصلے کے بعد اس کیس سے متعلق تمام ملزمان، مختلف عدالتوں کے فیصلوں کے تحت، یا تو بری ہو چکے ہیں یا ان کے خلاف الزامات ختم ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود واقعے کے متاثرین اب بھی مکمل انصاف اور حقیقت کے تعین کے منتظر ہیں۔


Share: