نئی دہلی، 23/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی) کانگریس نے خواتین ریزرویشن کے معاملے پر مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا اور مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کی موجودہ نشستوں کی بنیاد پر ہی خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فوری طور پر دیا جائے۔ مہیلا کانگریس کی صدر الکا لامبا نے اعلان کیا کہ ان کی تنظیم اگلے دو ماہ کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کو 10 لاکھ پوسٹ کارڈ بھیجے گی تاکہ خواتین کے ریزرویشن کے نفاذ کا مطالبہ زور دار طریقے سے اٹھایا جا سکے۔
پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الکا لامبا نے کہا کہ کانگریس اس مسئلے کو نہایت سنجیدگی سے لیتی ہے اور خواتین کے ساتھ انصاف کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھائے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خواتین کے ریزرویشن ترمیمی بل کے ذریعے حکومت نے ملک کی خواتین کو گمراہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی خواتین کو ریزرویشن دینا چاہتی ہے تو اسے لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستوں کی بنیاد پر ہی اس کا نفاذ کرنا چاہیے، نہ کہ نشستوں میں ممکنہ اضافے کا انتظار کیا جائے۔
الکا لامبا نے کہا کہ بی جے پی کی سوچ بنیادی طور پر خواتین کے خلاف ہے، جس کی وجہ سے وہ ریزرویشن کے نفاذ میں تاخیر کر رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب قانون منظور ہو چکا ہے تو اس پر عمل درآمد میں رکاوٹ کیوں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مہیلا کانگریس نے ’ناری شکتی وندن ابھیان — آج، ابھی کرو‘ کے نعرے کے ساتھ ملک گیر مہم شروع کی ہے، جس کے تحت مختلف شعبوں سے وابستہ خواتین اپنے نام اور پتے کے ساتھ پوسٹ کارڈ کے ذریعے وزیراعظم سے ریزرویشن نافذ کرنے کا مطالبہ کریں گی۔ یہ پوسٹ کارڈ مانسون اجلاس سے پہلے وزیراعظم کو پیش کیے جائیں گے۔
اس موقع پر کانگریس کے درج فہرست ذات کے شعبہ کے سربراہ راجندر پال گوتم نے کہا کہ بی جے پی خواتین ریزرویشن کے معاملے میں صرف دکھاوا کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے دور میں خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ ہوا ہے اور لاکھوں کیسز درج کیے گئے ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں عصمت دری کے واقعات زیادہ سامنے آئے ہیں، جبکہ منی پور میں خواتین کو برہنہ کرنے کا واقعہ انتہائی شرمناک تھا۔
دیگر پسماندہ طبقات کے شعبہ کے چیئرمین ڈاکٹر انل جے ہند نے کہا کہ او بی سی اور انتہائی پسماندہ طبقات کی خواتین کی حالت نہایت تشویشناک ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ان طبقات کی خواتین کے تحفظ کے لیے سخت قانون سازی کرے، جیسا کہ ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کے تحت کیا گیا ہے، تاکہ انہیں انصاف اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش میں او بی سی خواتین کے ساتھ ناانصافی کے معاملات بڑھ رہے ہیں اور حکومت کو فوری توجہ دینی چاہیے۔