نئی دہلی ، 23/ اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی)تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے اہم مرحلوں سے ایک روز قبل سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں اور مختلف جماعتیں آخری لمحات تک ووٹروں کو متوجہ کرنے میں مصروف ہیں۔ اسی تناظر میں کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے دونوں ریاستوں کے عوام کے نام ویڈیو پیغامات جاری کرتے ہوئے انتخابات کو ایک واضح نظریاتی مقابلہ قرار دیا ہے اور کانگریس و اس کے اتحادیوں کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔
تمل ناڈو میں کل ریاست کی تمام 234 اسمبلی نشستوں کے لیے ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہوگی۔ انتخابی حکام کے مطابق 57345000 (پانچ کروڑ تہتر لاکھ تینتالیس ہزار) سے زائد ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ اس بڑے انتخابی مرحلے کے پیش نظر سکیورٹی اور انتظامی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور پولنگ عملہ تعینات کیا جا چکا ہے۔
اپنے پیغام میں راہل گاندھی نے کہا کہ تمل ناڈو میں مقابلہ کانگریس-ڈی ایم کے اتحاد اور بی جے پی-اے آئی اے ڈی ایم کے اتحاد کے درمیان ہے، جو دراصل دو مختلف نظریات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی، اے آئی اے ڈی ایم کے کے ذریعے ریاست میں اپنا اثر بڑھانا چاہتی ہے اور تمل ثقافت، زبان اور روایات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اے آئی اے ڈی ایم کے کی قیادت بدعنوانی کے معاملات کے باعث کمزور ہو چکی ہے اور اسی وجہ سے وہ بی جے پی کے زیر اثر آ گئی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تمل ناڈو پر حکومت کا حق وہاں کے عوام، پنچایتوں، اسمبلی اور منتخب وزیر اعلیٰ کو ہونا چاہیے۔
راہل گاندھی نے سماجی انصاف کی روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس اور ڈی ایم کے کا اتحاد اسی نظریے کو آگے بڑھا رہا ہے، جس کی بنیاد کماراسوامی کامراج جیسے رہنماؤں نے رکھی تھی۔ انہوں نے خواتین، نوجوانوں اور کمزور طبقات کے لیے فلاحی اقدامات کا وعدہ بھی کیا اور اتحاد کے کارکنان سے اپیل کی کہ وہ ایک دوسرے کے امیدواروں کی بھرپور حمایت کریں۔
دوسری جانب مغربی بنگال میں کل 16 اضلاع کی 152 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی، جس میں 1478 (ایک ہزار چار سو اٹھہتر) امیدوار میدان میں ہیں۔ اس مرحلے کے بعد دوسرے مرحلے کی ووٹنگ اگلے بدھ کو ہوگی۔ انتخابی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور حساس علاقوں میں خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
مغربی بنگال کے لیے اپنے پیغام میں راہل گاندھی نے بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت انتخابات میں بے ضابطگیوں کا سہارا لیتی ہے اور مختلف ریاستوں میں انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت دو نظریات کے درمیان براہ راست مقابلہ ہے، ایک طرف کانگریس کا نظریہ ہے جو آئین، تنوع اور جمہوریت کے تحفظ پر یقین رکھتا ہے، جبکہ دوسری طرف بی جے پی کا نظریہ ہے جو ملک کی کثرت میں وحدت کی روایت کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔
انہوں نے ’ایک قوم، ایک زبان، ایک مذہب‘ کے تصور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہندوستان مختلف زبانوں، مذاہب اور ثقافتوں کا مجموعہ ہے اور اسی تنوع میں اس کی طاقت ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ آئین ملک کو ریاستوں کا اتحاد قرار دیتا ہے اور اس بنیادی ڈھانچے کا تحفظ ضروری ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے دونوں ریاستوں کے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ کانگریس اور اس کے اتحادیوں کو ووٹ دیں تاکہ انصاف، آئینی بالادستی اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتخابات ملک کی سمت طے کریں گے اور عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت کی اصل طاقت ہے۔