دبئی ، 26/ اکتوبر (ایس او نیوز/پریس ریلیز) متحدہ عرب امارات میں جدید طبی سہولتوں کو وسعت دینے کے مقصد سے تھمبے گروپ نے دبئی، ام القوین اور فجیرہ میں نئے بحالی مراکز (ری ہیبلیٹیشن سینٹرز) قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان مراکز کے ذریعے مریضوں کو جدید بازآبادکاری اور علاج کی سہولتیں ان کے قریب فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ گلف میڈیکل یونیورسٹی کے کالج آف ہیلتھ سائنسز کے طلبہ کی تدریس اور عملی تربیت کو بھی فروغ دیا جائے گا۔
یہ اعلان عجمان کے الجرف میں واقع تھمبے میڈی سٹی میں منعقدہ چھٹی بین الاقوامی سالانہ کانفرنس برائے اختراعات و اعزازات برائے بحالی طب و طریقۂ علاج کے دوران کیا گیا۔ کانفرنس کی سرپرستی عجمان کے حکمران کے دفتر کے چیئرمین عزت مآب شیخ ڈاکٹر ماجد بن سعید النعیمی نے کی، جبکہ تقریب کی صدارت تھمبے گروپ کے بانی صدر ڈاکٹر تھمبے محی الدین نے انجام دی۔
گلف میڈیکل یونیورسٹی کے کالج آف ہیلتھ سائنسز نے تھمبے فزیکل تھیراپی اینڈ ری ہیبلیٹیشن ہاسپٹل کے اشتراک سے اس کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں متحدہ عرب امارات، خلیجی ممالک اور دیگر علاقوں سے فزیوتھیراپسٹ، ہڈیوں اور اعصابی امراض کے ماہرین، پیشہ ورانہ اور گفتاری علاج کے ماہرین، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔ کانفرنس کو مسلسل طبی تعلیم کے لیے 8 سی ایم ای کریڈٹ گھنٹوں کی منظوری بھی حاصل تھی۔
کانفرنس کے دوران بحالی طب کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور مریضوں کی صحت یابی کو تیز کرنے کے مختلف طریقوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر روبوٹک ایکسو اسکیلیٹنز کے ذریعے مریضوں کو دوبارہ چلنے کی تربیت، ورچوئل ریئلٹی، پہننے کے قابل سینسرز، ٹیلی ری ہیبلیٹیشن، اعصابی بحالی، گفتاری و صوتی امراض کے علاج، ریڑھ کی ہڈی کی دیکھ بھال اور کمپریشن تھیراپی جیسے موضوعات پر ماہرین نے اپنے تجربات اور معلومات پیش کیں۔ مقررین میں دبئی ہیلتھ کے شعبۂ نیورو ری ہیبلیٹیشن کے سربراہ ڈاکٹر خوان کامیلو کورٹیس اور اسکندریہ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جمال یوسف بھی شامل تھے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تھمبے گروپ کے نائب صدر برائے شعبۂ صحت مسٹر اکبر محی الدین تھمبے نے اعلان کیا کہ تھمبے فزیکل تھیراپی اینڈ ری ہیبلیٹیشن ہاسپٹل کی گنجائش میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ اس توسیعی منصوبے کے تحت علاج کے شعبوں کی تعداد 27 سے بڑھا کر 39 اور علاج کے لیے دستیاب بستروں کی تعداد 36 سے بڑھا کر 48 کی جائے گی۔ منصوبے میں 6 نئے بیرونی اور علاجی علاقے شامل کرنے کے علاوہ 5 مخصوص علاجی زون اور 7 خصوصی علاجی شعبوں کو بھی وسعت دی جائے گی۔
اسپتال میں جدید روبوٹک اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے، جس کا مقصد مریضوں کی بحالی کے عمل کو تیز، مؤثر اور زیادہ معیاری بنانا ہے۔ ان سہولتوں میں جی پی اے آر ایم / موٹس گائٹ ٹرینر شامل ہے، جو روبوٹک نظام کے ذریعے مریضوں کو دوبارہ چلنے کی تربیت فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح ایم ایل ایس روبوٹک لیزر تھیراپی کے ذریعے درد پر قابو پانے اور بافتوں کی بحالی میں مدد دی جائے گی۔
اس کے علاوہ روبوٹک موکسی بسشن اور تھری ڈی نیزومیٹری جیسی ٹیکنالوجی کے ذریعے گفتار اور آواز کے تجزیے میں درستگی پیدا کرنے اور مریضوں کو بہتر بایوفیڈبیک فراہم کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ بچوں کی بحالی کے لیے آگمینٹڈ ریئلٹی اور ورچوئل ریئلٹی پر مبنی گائٹ ٹریننگ بھی متعارف کرائی جائے گی، جس کے ذریعے کھیل کے انداز میں بچوں کو چلنے پھرنے کی مشق کرائی جا سکے گی۔ تھمبے گروپ کا مقصد اس اسپتال کو ملک کا سرکردہ جدید بحالی مرکز بنانا ہے۔
کانفرنس کی اہم تقریب میں سال 2026 کا ’اسٹار آف دی ایئر‘ ایوارڈ پروفیسر یو۔ ٹی۔ افتخار فرید، چیئرمین نیشنل کمیشن فار الائیڈ اینڈ ہیلتھ کیئر کونسل، کرناٹک، ہندوستان کو پیش کیا گیا۔ انہیں الائیڈ ہیلتھ اور بحالی طب کی تعلیم کے فروغ اور اس شعبے میں طویل عرصے تک قیادت فراہم کرنے کے اعتراف میں اس اعزاز سے نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ مہمانِ خصوصی شیخ ڈاکٹر ماجد بن سعید النعیمی نے پیش کیا۔
اس موقع پر بحالی طب کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والے 26 رہنماؤں اور اداروں کو ’انوویشن اِن ری ہیبلیٹیشن ایوارڈز 2026‘ سے بھی نوازا گیا۔ اعزاز حاصل کرنے والوں میں دبئی کلب فار پیپل آف ڈیٹرمینیشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عزت مآب ماجد العُصیمی، ایمریٹس فزیوتھیراپی ایسوسی ایشن کی صدر نعیمہ صالح، عمان فزیکل تھیراپی ایسوسی ایشن کے ایسوسی ایٹ ڈین ڈاکٹر احمد الخروصی اور راشد ہاسپٹل کے ڈاکٹر یوسف عبدالخالق دھہیر شامل تھے۔
شیخ خلیفہ اسپیشلٹی ہاسپٹل، راس الخیمہ کے ڈاکٹر ہیونگ سیوک نام، حمید بن راشد فاؤنڈیشن اور کلیولینڈ کلینک ابوظہبی، القاسمی ہاسپٹل، عجمان یونیورسٹی، یونیورسٹی آف شارجہ، کالاسالنگم یونیورسٹی اور تھمبے ہیلتھ کیئر سے وابستہ ماہرین اور اداروں کو بھی ان اعزازات سے نوازا گیا۔
کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بحالی طب کا مقصد صرف مریض کی جان بچانا نہیں، بلکہ اسے دوبارہ ایک فعال اور بہتر زندگی گزارنے کے قابل بنانا بھی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، ماہرین کی تربیت اور علاج کی سہولتوں میں توسیع کے ذریعے مریضوں کی صحت یابی کے معیار کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
کانفرنس کو ایکسو بایونکس، ایچ پی او ٹیک میڈیکل، ایم اے ایس میڈیکل سرجیکل آرٹیکلز اینڈ ریکوزیشنز ٹریڈنگ، باؤرفائنڈ مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ، موڈاوینا میڈیکل، فوریئر انٹیلیجنس اور الفا میڈیکل اینڈ ڈینٹل سروسز کا تعاون حاصل رہا۔