بنگلورو، 26 اکتوبر (ایس او نیوز): کرناٹک میں ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے دوران ووٹروں کے نام حذف کرنے کے معاملے میں ایک نیا تنازع سامنے آیا ہے۔ انگریزی روزنامہ دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، ریاست میں انتخابی حکام نے 61,059 فارم 7 درخواستیں داخل کیں، جن میں کسی بھی درخواست میں نام حذف کرنے کی وجہ درج نہیں تھی۔ انتخابی فہرستوں سے نام حذف کرنے کے لیے مقررہ ضابطوں کے تحت وجہ درج کرنا ضروری ہے، جس کے باعث ان درخواستوں کے طریقۂ کار اور قانونی حیثیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، الیکٹورل رجسٹریشن افسران (EROs) اور اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن افسران (AEROs) نے وضاحت کی کہ بعض ووٹروں کو انتخابی فہرست میں نام کی میپنگ نہ ہونے یا تفصیلات میں منطقی تضادات کے سلسلے میں نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سماعت کے دوران متعلقہ ووٹروں سے رابطہ نہ ہوپانے کی صورت میں نظام نے خودکار طریقے سے فارم 7 تیار کیے، جن پر ان کے ڈیجیٹل دستخط بھی درج ہوگئے۔ تاہم، ان درخواستوں میں نام حذف کرنے کی وجوہات درج نہیں ہوئیں۔
اعتراضات کی مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد بڑی تعداد میں درخواستیں
رپورٹ کے مطابق، 24 اگست سے 23 ستمبر 2026 کے درمیان انتخابی حکام کی جانب سے ایسی صرف 192 درخواستیں داخل کی گئی تھیں، لیکن 24 ستمبر سے 22 اکتوبر کے درمیان یہ تعداد 60,800 سے تجاوز کرگئی۔ خاص طور پر اعتراضات پر کارروائی کی آخری تاریخ کے قریب درخواستوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
صرف 21 اکتوبر کو 10,314 اور 22 اکتوبر کو 10,105 درخواستیں داخل کی گئیں۔ اس سے قبل 17 اکتوبر کو 11,132 اور 19 اکتوبر کو 11,760 درخواستیں داخل کی گئی تھیں۔
دی ہندو نے بعض ووٹروں کے الیکٹورل فوٹو آئیڈینٹیٹی کارڈ (EPIC) نمبروں کی مدد سے انتخابی کمیشن کے پورٹل پر ان کی تفصیلات کی جانچ کی۔ رپورٹ کے مطابق، جانچ کیے گئے معاملات میں ان ووٹروں کے نام فہرست سے حذف پائے گئے، جن کے خلاف درخواستیں مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد بھی داخل کی گئی تھیں۔
قانونی ضابطوں کی پابندی پر سوال
رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز، 1960 کے قاعدہ 17 کے مطابق، مقررہ مدت یا طریقۂ کار کے برخلاف داخل کیے گئے دعوؤں اور اعتراضات کو مسترد کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح، نام حذف کرنے کی درخواست میں مطلوبہ وجہ درج نہ ہونے کا معاملہ بھی قانونی تقاضوں سے متعلق سوال پیدا کرتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض معاملات میں یہ واضح نہیں ہوسکا کہ متعلقہ ووٹروں کو لازمی نوٹس جاری کیے گئے تھے یا نہیں، اور نام حذف کرنے کے احکامات کن بنیادوں پر جاری ہوئے۔ اس پہلو پر بھی وضاحت طلب ہے کہ مقررہ مدت کے بعد موصول ہونے والی درخواستوں پر کارروائی کرتے ہوئے حتمی فہرست کے لیے مقررہ ضابطوں کی پابندی کس حد تک کی گئی۔
بنگلورو میں سب سے زیادہ درخواستیں
رپورٹ کے مطابق، بروہت بنگلورو مہانگر پالیکے (BBMP) ساؤتھ انتخابی ضلع میں انتخابی حکام کی جانب سے 10,374 درخواستیں داخل کی گئیں، جبکہ اس ضلع میں فارم 7 کی مجموعی درخواستوں کی تعداد 17,491 تھی۔ بومن ہلی اسمبلی حلقے میں حکام نے 5,757 درخواستوں میں سے 4,095 درخواستیں داخل کیں۔
کم از کم 26 اسمبلی حلقوں میں انتخابی حکام کی جانب سے داخل کی گئی فارم 7 درخواستوں کی تعداد عام ووٹروں یا تیسرے فریق کی جانب سے داخل کردہ درخواستوں سے زیادہ رہی۔
مجموعی طور پر فارم 7 کی درخواستیں 2.28 لاکھ سے تجاوز
دوسری جانب، انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، کرناٹک میں 16 جون سے 22 اکتوبر کے درمیان فارم 7 کی مجموعی درخواستوں کی تعداد بڑھ کر 2,28,917 ہوگئی۔ ان میں نام حذف کرنے کی درخواستیں اور انتخابی فہرست میں نام شامل کیے جانے پر اعتراضات شامل ہیں۔ 23 ستمبر تک یہ تعداد 58,475 تھی، جس کے بعد ایک ماہ کے دوران درخواستوں میں 1,70,442 کا اضافہ درج کیا گیا۔
اس دوران فارم 6 کے ذریعے نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے 10.42 لاکھ اور فارم 8 کے ذریعے تفصیلات میں ترمیم کے لیے 13.10 لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں۔
کرناٹک کے چیف الیکٹورل آفیسر کے مطابق، نوٹس جاری کیے گئے 43.82 لاکھ ووٹروں کی سماعت مکمل ہوچکی ہے۔ حتمی انتخابی فہرست 27 اکتوبر کو شائع کیے جانے کا شیڈول ہے۔
اس معاملے پر کانگریس نے اجتماعی درخواستوں کے ذریعے حقیقی ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے خدشات ظاہر کیے ہیں، جبکہ بی جے پی نے الزامات کی تردید کی ہے۔ اجتماعی درخواستوں سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات بھی جاری ہیں اور اس نوعیت کے معاملات میں ایف آئی آر درج کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
ووٹر لسٹ کی درستگی اور ووٹ کے حق کا سوال
فارم 7 کا استعمال کسی نام کے اندراج پر اعتراض کرنے یا موجودہ انتخابی فہرست سے نام حذف کرنے کی درخواست کے لیے کیا جاتا ہے۔ کسی ووٹر کی موت، مستقل طور پر دوسری جگہ منتقل ہونے یا ایک سے زائد مقامات پر اندراج جیسے معاملات میں متعلقہ قواعد کے مطابق نام حذف کرنے کی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ تاہم، کسی ووٹر سے سماعت کے دوران رابطہ نہ ہوپانا بذاتِ خود اس بات کا حتمی ثبوت نہیں کہ وہ ووٹ دینے کا اہل نہیں ہے۔
کانگریس کا سخت ردعمل، انتخابی کمیشن سے تحقیقات کا مطالبہ
اس معاملے پر کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انتخابی کمیشن کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اس سے قبل چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے ووٹر لسٹ سے اہل ووٹروں کے نام حذف کرنے کی کوششوں کی غیر جانبدارانہ اور وقت مقررہ کے اندر تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ مختلف اسمبلی حلقوں میں بڑی تعداد میں فارم 7 درخواستیں جمع کی گئی ہیں اور بعض درخواستوں میں ووٹروں کی تفصیلات پہلے سے چھپی ہوئی تھیں۔ کانگریس نے اس معاملے میں بی جے پی اور جنتا دل (سیکولر) سے وابستہ افراد کے کردار کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
تازہ انکشاف پر کانگریس کے رکن پارلیمان پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا کہ اگر کانگریس کی حکومت والی کرناٹک میں ایسا ہوسکتا ہے تو بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں کیا کچھ ہورہا ہوگا۔ انہوں نے انتخابی کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر بھی تنقید کی۔ اس دوران انتخابی حکام کی جانب سے داخل کردہ 61,059 درخواستوں میں نام حذف کرنے کی وجوہات درج نہ ہونے کا معاملہ مزید وضاحت اور تحقیقات کا متقاضی ہے۔