کالی کٹ، 19 اپریل (ایس او نیوز): ریاست کیرالہ کے ضلع کوزی کوڈ کے پیرمبرا نامی مقام پر مدرسہ کے طلبہ پر حملہ اور انہیں “دہشت گرد” کہنے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد کیرالہ جیسے نسبتاً پرامن سمجھے جانے والے خطے میں فرقہ وارانہ حساسیت کے ایک نئے پہلو پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، اور واقعے کو لے کر مختلف سطحوں پر بحث جاری ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب طلبہ پوسٹر لگانے گئے تھے۔
ملیالم اخبار مادھیمم اور دیگر علاقائی میڈیا رپورٹس کے مطابق مدرسہ کے چند طلبہ کو اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک نجی جگہ پر پوسٹر چسپاں کر رہے تھے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ انہیں پہلے زمین کے مالک کی جانب سے اجازت دی گئی تھی، لیکن دوبارہ آنے پر معاملہ اچانک کشیدہ ہوگیا۔
رپورٹس کے مطابق طلبہ کو زبردستی ایک مکان کے اندر لے جایا گیا، جہاں ان سے مذہب اور بین الاقوامی معاملات (جیسے ایران، اسرائیل، افغانستان اور شام) سے متعلق سوالات کیے گئے۔
طلبہ نے الزام لگایا کہ انہیں باہر جانے سے روکا گیا، گیٹ بند کردیا گیا، اور پھر ان پر جسمانی تشدد کیا گیا، جس میں مارپیٹ اور دھکے دینا شامل ہے۔ اس دوران انہیں “دہشت گرد” کہہ کر پکارا گیا اور فرقہ وارانہ جملے بھی کہے گئے۔
رپورٹس کے مطابق زخمی طلبہ کو پہلے پیرمبرا تعلقہ اسپتال لے جایا گیا، تاہم شدید چوٹوں کے باعث بعد میں انہیں کوزی کوڈ میڈیکل کالج منتقل کیا گیا۔
واقعے کے بعد طلبہ تنظیموں نے اس حملے میں ہندوتوا سے وابستہ عناصر کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے اور اسے فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔
انگریزی اخبار دی ہندو کے مطابق پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہے، تاہم بعض حلقوں نے ابتدائی کارروائی کو ناکافی قرار دیا ہے۔
طلبہ تنظیموں اور سماجی حلقوں نے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر ملزمان کی گرفتاری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، اور خبردار کیا ہے کہ ایسے واقعات ریاست کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔