بھٹکل 29/اکتوبر (ایس او نیوز) : بھٹکل تعلقہ کے شیرالی کمیونٹی ہیلتھ سینٹر میں تین روزہ نومولود بچی کے گلے میں مبینہ طور پر ماں کا دودھ پھنسنے سے ہوئی موت کے معاملے میں پولیس نے دو الگ الگ مقدمات درج کیے ہیں۔ایک طرف بچی کے والد ستیش رام نائک نے ڈاکٹروں پر علاج میں لاپروائی کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے شکایت درج کرائی ہے، جبکہ واقعے کے بعد ڈاکٹروں اور اسپتال کے عملے کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور مارپیٹ کے الزام میں شرالی کے دیوراج نائک سمیت 10 سے 11 افراد کے خلاف بھی شکایت درج کی گئی ہے۔
یا د رہے کہ ستیش نائک کی اہلیہ ہیما نے 26 اکتوبر کو شرالی اسپتال میں ایک بچی کو جنم دیا تھامگر 28 اکتوبر کو اچانک سانس لینے میں دشواری کے باعث اس کی موت ہوگئی۔ بچی کی نعش اب کاروار میڈیکل کالج منتقل کرکے پوسٹ مارٹم کروایا گیا ہے۔جبکہ موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔
دوسر ی طرف معاملے میں، شیرالی کمیونٹی ہیلتھ سینٹر کے بچوں کے ماہر ڈاکٹر لیلا دھر موگیر نے الزام لگایا ہے کہ بچی کی موت پر ڈاکٹروں سے بحث کے دوران ڈاکٹر لیلا دھر موگیر کے ساتھ مارپیٹ کی گئی، جبکہ انہیں بچانے کی کوشش کرنے والے ڈاکٹر راجیش وی پر بھی حملہ کیا گیا۔ اسپتال کی خاتون ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر عملے کو دھمکیاں دینے اور ان کے ساتھ بدزبانی کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
بھٹکل مضافاتی پولیس نے دونوں معاملات درج کرتے ہوئے چھان بین شروع کردی ہیں۔