بنگلورو ، 11/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک حکومت اور قومی کمیشن برائے خواتین کے مشترکہ تعاون سے ریاست بھر میں ’تیرے میرے سپنے، مل کر جئیں‘ کے نام سے قبل از ازدواج مشاورتی منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد نوجوانوں کو شادی سے قبل جذباتی تیاری، باہمی احترام، مثبت گفت و شنید، مالی منصوبہ بندی اور خاندانی ذمہ داریوں سے متعلق رہنمائی فراہم کرتے ہوئے مضبوط اور خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے تیار کرنا ہے۔
ریاستی چیف سکریٹری ڈاکٹر شالنی رجنیش نے بنگلورو کے جواہر بال بھون میں منعقدہ تسلی مراکز کے مشیروں کے تربیتی پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے سماجی ماحول میں شادی سے قبل نوجوانوں کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ، احترام اور مثبت رابطے کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی مقصد کے تحت ریاست کے 178 تسلی مراکز میں قبل از ازدواج مشاورتی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں، جہاں عوام اور مستحقین کو مکمل طور پر مفت مشاورتی خدمات فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ان مراکز کے ذریعے نوجوانوں کو شادی سے قبل ضروری زندگی کی مہارتیں حاصل کرنے، مالی معاملات کی منصوبہ بندی کرنے اور روزمرہ خاندانی مسائل کو سمجھ داری اور باہمی گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کے لیے رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام سے غیر ضروری خاندانی تنازعات کی روک تھام اور خاندانی ادارے کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
اس موقع پر قومی کمیشن برائے خواتین، کرناٹک حکومت کے محکمہ خواتین و اطفال ترقی اور کرناٹک ریاستی کمیشن برائے خواتین کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کیے گئے۔
منصوبے کے تحت متوقع جوڑوں میں شادی سے قبل باہمی سمجھ بوجھ، احترام اور جذباتی تیاری کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ذمہ داریوں کی تقسیم، مالی نظم و نسق اور ممکنہ خاندانی مسائل کے حل کے لیے تعمیری مشاورت فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ پیشہ ورانہ رہنمائی اور مثبت مکالمے کے ذریعے خاندانی اختلافات کی روک تھام اور صنفی حساس خاندانی ماحول کے قیام پر بھی توجہ دی جائے گی۔
منصوبے کے نفاذ میں تینوں اداروں کی ذمہ داریاں بھی متعین کی گئی ہیں۔ قومی کمیشن برائے خواتین تربیتی ماڈیول فراہم کرنے، ماسٹر ٹرینرز کو تربیت اور سرٹیفکیٹ دینے اور قومی سطح پر منصوبے کی نگرانی کرے گا۔ محکمہ خواتین و اطفال ترقی ریاست کے 178 تسلی مراکز کے ذریعے مفت قبل از ازدواج مشاورتی خدمات فراہم کرے گا، جبکہ کرناٹک ریاستی کمیشن برائے خواتین عوامی بیداری پیدا کرنے اور مختلف محکموں کے درمیان رابطہ و تعاون کو یقینی بنائے گا۔
اس موقع پر قومی کمیشن برائے خواتین کی صدر وجے راہتکر نے کہا کہ مضبوط خاندانوں کی بنیاد بہتر باہمی رابطے، اعتماد اور سمجھ بوجھ پر قائم ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 178 مراکز کے اس منصوبے میں شامل ہونے کے بعد کرناٹک ملک کی ان ریاستوں میں شامل ہوگیا ہے جہاں اس نوعیت کا بڑے پیمانے پر نفاذ کیا جا رہا ہے۔ قومی کمیشن برائے خواتین کی رہنمائی میں ملک کی 16 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 285 سے زائد مراکز کے ذریعے اس پروگرام کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
تقریب میں محکمہ خواتین و اطفال ترقی کی سکریٹری ڈاکٹر شاملہ اقبال، ڈائریکٹر سنیہا، کرناٹک ریاستی کمیشن برائے خواتین کی سکریٹری آر روپا سمیت محکمہ کے اعلیٰ افسران اور تسلی مراکز کے مشیر موجود تھے۔