ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے کے خلاف حملوں کی دھمکیوں کے بعد چین کا ایک تیل بردار جہاز ابنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب؛ خلیجی ممالک میں "ہائی الرٹ"

امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے کے خلاف حملوں کی دھمکیوں کے بعد چین کا ایک تیل بردار جہاز ابنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب؛ خلیجی ممالک میں "ہائی الرٹ"

Tue, 14 Apr 2026 13:52:41    S O News
امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے کے خلاف  حملوں کی دھمکیوں کے بعد  چین کا ایک تیل بردار جہاز ابنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب؛ خلیجی ممالک میں "ہائی الرٹ"

دبئی 14/اپریل (ایس او نیوز)  ابنائے ہرمز کو لے کر امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آنے کے بعد خلیجی ممالک بالخصوص  متحدہ عرب امارات  اور سعودی عرب نے اپنے تمام دفاعی میزائل سسٹمز  کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ دبئی سے شائع ہونے والے معروف انگریزی میڈیا رپورٹوں کے مطابق دبئی کے  جبل علی پورٹ  اور ابوظہبی کے حبشان گیس فیسیلٹی (Habshan Gas Facility) کے قریب، جہاں پہلے  دھماکوں کی واردات  پیش آئی تھی، اب یہاں  سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ اپریل کے آغاز سے اب تک ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی اہم تنصیبات پر ڈرونز اور میزائلوں کے متعدد حملے رپورٹ ہوئے تھے، جن میں سے بیشتر کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا تھا، تاہم ان کے ملبے سے دبئی اور ابوظہبی کے کچھ رہائشی علاقوں میں نقصان کی خبریں بھی سامنے آئی  تھیں۔

یمن کی دھمکی اور "باب المندب" کا خطرہ
قطر سے شائع ہونے والے معروف  میڈیا، الجزیرہ نے اپنی تازہ لائیو اپڈیٹ میں خبر دی ہے کہ امریکہ کی طرف سے ایران پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد  یمن کے حوثی باغیوں نے باضابطہ انتباہ جاری کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق  اگر کسی بھی خلیجی ملک نے امریکہ یا اسرائیل کو ایران کے خلاف اپنی سرزمین یا فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی، تو یمن باب المندب (Bab el-Mandeb) کی گزرگاہ کو مکمل طور پر بند کر دے گا۔  یمنی حکام کا کہنا ہے کہ وہ بحیرہ احمر میں امریکی بحری بیڑوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہیں۔

تجارتی جہازوں کی پہلی نقل و حرکت
آج منگل صبح (14 اپریل 2026) کی سعودی گزٹ  میں شائع  ایک اہم خبر کے مطابق، امریکی ناکہ بندی کے باوجود چین کا ایک تیل بردار جہاز 'رچ اسٹاری' (Rich Starry) ابنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ یہ جہاز متحدہ عرب امارات سے میتھانول لے کر جا رہا تھا، جو ناکہ بندی کے آغاز کے بعد اس حساس علاقے سے گزرنے والا پہلا جہاز بن گیا ہے۔ اس جہاز کے گذرنے کو لے کر کہا جارہا ہے کہ  چین اپنی توانائی کی سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے امریکی ناکہ بندی کو چیلنج کر رہا ہے۔

ایک اور خلیجی ملک بحرین نے عراق میں مقیم ایران نواز گروپوں کی جانب سے مسلسل حملوں کے خلاف عراقی سفیر کو طلب کر کے احتجاج درج کرایا ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق سعودی عرب اور قطر  فی الحال اس کوشش میں ہیں کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی طرح دوبارہ شروع ہو سکیں تاکہ خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔

رپورٹوں میں واضح کیا گیا ہے کہ خلیج کے ممالک اس وقت ایک "مجبور" پوزیشن میں ہیں۔ ایک طرف امریکہ کا دباؤ ہے اور دوسری طرف ایران کی کھلی دھمکی کہ "اگر ہم ڈوبے تو سب کو ساتھ لے کر ڈوبیں گے"۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، بحرین، کویت اور قطر میں مقیم امریکی فوجی اڈوں پر ممکنہ ایرانی حملوں کے خوف سے ان ممالک کی حکومتیں امریکہ سے "محتاط" رہنے کی اپیل کر رہی ہیں۔

ایسے میں  خلیجی میڈیا کے مطابق، تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں شدید مندی کا رجحان ہے اور تمام خلیجی بندرگاہوں پر انشورنس پریمیم میں 300 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں کے اثرات کو دیکھتے ہوئے  ماہرین اسے عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا امتحان قرار دے رہے ہیں۔


Share: